World
اسپین: بحیرہ روم میں تارکین وطن کی اسمگلنگ نیٹ ورک تباہ، 78 گرفتار
اسپین کی قیادت میں کیے جانے والے ایک بڑے مشترکہ کریک ڈاؤن کے دوران مغربی بحیرہ روم میں تارکینِ وطن کی اسمگلنگ کرنے والے ایک بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں حکام نے مجموعی طور پر اٹھہتر افراد کو گرفتار کر لیا ہے جو اس غیر قانونی دھندے میں ملوث تھے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے مغربی بحیرہ روم کے راستے تارکینِ وطن کی غیر قانونی نقل و حمل اور اسمگلنگ کرنے والے ایک انتہائی خطرناک اور بڑے مجرمانہ نیٹ ورک کو کامیابی کے ساتھ توڑ دیا ہے۔ یہ کارروائی اسپین کی پولیس اور سکیورٹی اداروں کی قیادت میں عمل میں لائی گئی، جس میں بین الاقوامی تعاون سے یہ اہم کامیابی حاصل ہوئی۔ اس مجرمانہ نیٹ ورک کے خاتمے کو تارکینِ وطن کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپین کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس وسیع آپریشن کے دوران کل اٹھہتر (78) افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کا تعلق مبینہ طور پر اسی بین الاقوامی اسمگلنگ رنگ سے ہے۔ یہ نیٹ ورک طویل عرصے سے خطرناک سمندری راستوں کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل کرنے کی کوششوں میں ملوث تھا۔ اس کارروائی سے نہ صرف اس مجرمانہ گینگ کی کمر ٹوٹ گئی ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورکس کو بھی واضح پیغام ملا ہے۔
بین الاقوامی اداروں نے اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں انسانی اسمگلنگ کے رحجان میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ غیر قانونی اسمگلنگ کے یہ نیٹ ورک تارکینِ وطن کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال کر بھاری رقوم بٹورتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور اس نیٹ ورک کے دیگر مفرور کارندوں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کی جڑوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔