World
فرانس اور اسپین میں جنگلات کی آگ، تازہ ترین اپڈیٹس
فرانس اور اسپین میں جنگلات میں لگی خوفناک آگ پر قابو پانے کی کوششیں انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ نئے متوقع شدید گرمی کی لہر سے پہلے فائر فائٹرز دن رات آگ بجھانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
فرانس اور اسپین کے جنگلات میں لگی ہولناک آگ پر قابو پانے کے لیے جاری کوششیں ایک انتہائی اہم اور نازک موڑ پر پہنچ چکی ہیں کیونکہ خطے میں ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق فرانس کے شہر بورڈو کے گردونواح میں آگ کے شعلے تیزی سے پھیل رہے ہیں اور حالیہ طوفانی بجلی گرنے کے واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں اس 'مونسٹر' آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تاکہ آبادی والے علاقوں اور قیمتی جنگلات کو محفوظ بنایا جا سکے۔اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا براہ راست سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے فائر فائٹرز کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور خشک سالی اس آگ کو مزید ہوا دے رہی ہے جس سے فائر فائٹنگ کے مشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔آگ پر قابو پانے کے لیے فضائی مدد کا سہارا بھی لیا جا رہا ہے اور فرانسیسی فوج کے اے فور ہنڈریڈ ایم (A400M) ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے کو بھی عارضی طور پر واٹر ٹینک سے لیس کر کے اس مہم میں شامل کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ درجہ حرارت میں متوقع اضافے سے آگ کے شعلے دوبارہ شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے قریبی علاقوں سے شہریوں کا انخلا بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس ماحولیاتی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔