Health
مائیکرو پلاسٹک اور جگر کی چربی کی بیماری کا خطرہ
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزمرہ استعمال میں آنے والے مائیکرو پلاسٹک جگر میں چربی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ ذرات اب ماحول اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں باآسانی داخل ہو رہے ہیں۔
سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی اور اہم تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزمرہ زندگی میں عام طور پر استعمال ہونے والا پلاسٹک اور اس کے نتیجے میں بننے والے مائیکرو پلاسٹک ذرات جگر کی چربی کی بیماری (فیٹی لور ڈیزیز) کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اب ہمارے ماحول میں اس حد تک پھیل چکے ہیں کہ ان سے بچنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ یہ سمندروں، پینے کے پانی اور یہاں تک کہ غذائی اشیاء میں بھی پائے جاتے ہیں۔
محققین کے مطابق جب یہ چھوٹے پلاسٹک کے ذرات انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں تو یہ اندرونی اعضاء بالخصوص جگر کے افعال کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ جگر ہمارے جسم کا ایک ایسا اہم عضو ہے جو زہریلے مادوں کو فلٹر کرنے کا کام کرتا ہے، لیکن مائیکرو پلاسٹک کی مسلسل موجودگی جگر کے خلیات میں چربی کے جمع ہونے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے جس سے فیٹی لیور جیسی خطرناک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ پلاسٹک کا استعمال جدید زندگی کا لازم و ملزوم حصہ بن چکا ہے، تاہم اس کے صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اس تحقیق کے بعد صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پلاسٹک کی مصنوعات کے متبادل تلاش کیے جائیں اور عوام میں اس کے خطرات سے متعلق آگاہی پھیلائی جائے تاکہ سنگین طبی مسائل سے بچا جا سکے۔