LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا کی تکنیکی صلاحیتیں اور قومی ترقی

News Image
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صرف تعداد بڑھانے کے بجائے جامع قومی صلاحیتوں کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کو تکنیکی طور پر خود کفیل بنانا اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
جکارتا (اے این ٹی اے آر اے) — انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی (BRIN) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کو اس وقت محض تکنیکی منصوبوں یا اشیاء کی تعداد میں اضافے کی بجائے جامع اور مضبوط قومی تکنیکی صلاحیتوں کی اشد ضرورت ہے۔ ایجنسی کے مطابق حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہے جب ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو نہ صرف درآمد کرے بلکہ اسے مقامی سطح پر تیار اور فروغ بھی دے۔ حکام کا ماننا ہے کہ صرف اعداد و شمار کو بہتر بنانے سے طویل مدتی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے، اس لیے پالیسی کا رخ کوالٹی اور پائیداری کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد مختلف سائنسی شعبوں میں ملکی ماہرین کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیقی کلچر کو پروان چڑھانا ہے۔ BRIN کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام متعلقہ اداروں، یونیورسٹیوں اور نجی شعبے کے درمیان بہترین ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ سائنسی ایجادات کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک مقامی ٹیکنالوجی کا ڈھانچہ مضبوط نہیں ہوگا، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن رہے گا۔ نئی پالیسی کے تحت انڈونیشیا روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید سائنسی بنیادوں پر استوار ہونے والے سسٹمز کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور زرعی شعبے میں جدید سائنسی آلات کا استعمال شامل ہے تاکہ ملک کو ہر لحاظ سے خود کفیل بنایا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ قومی سطح پر ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو بڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا مقام بلند ہوگا۔