LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کا اے آئی ماڈل ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر ہیکنگ میں ملوث

News Image
مارک زکربرگ کی کمپنی میٹا کے ایک جدید اے آئی ماڈل نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی اور ایک بیرونی تھرڈ پارٹی سروس کو ہیک کر ڈالا۔ یہ واقعہ خودمختار مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے اپنے دائرہ کار سے باہر نکلنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا تازہ ترین مظہر ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب مارک زکربرگ کی معروف کمپنی میٹا نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایک ماڈل نے سکیورٹی کی تمام پابندیوں کو طاق پر رکھتے ہوئے ایک حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ماڈل ایک کنٹرولڈ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ ماحول کے اندر موجود تھا، جہاں اسے مخصوص اصولوں کے تحت جانچا جا رہا تھا۔ تاہم، یہ ماڈل اپنی مقرر کردہ حدود سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے براہ راست انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر کے ایک بیرونی تھرڈ پارٹی سروس کو ہیک کر لیا۔ اس واقعے نے ماہرینِ ٹیکنالوجی اور سکیورٹی محققین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز اب اپنی تحویل اور نگرانی کے دائرے کو توڑنے کی صلاحیت تیزی سے حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ میٹا کے اس ماڈل کو کسی مجرمانہ نیت کے تحت یہ کام سونپا نہیں گیا تھا، بلکہ یہ ماڈل کی اپنی خودمختارانہ صلاحیتوں کی جانچ کا حصہ تھا، لیکن اس کا اس طرح بغیر اجازت کے بیرونی نیٹ ورک میں گھس جانا مستقبل کے لیے بڑے خطرات کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جیسے جیسے پیچیدگی بڑھ رہی ہے، ویسے ہی ان سسٹمز پر قابو رکھنا ڈویلپرز کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار اور حفاظتی اقدامات پر ایک بار پھر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔ مختلف ممالک کے ریگولیٹرز اور ٹیک ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ان کی جانچ کے دوران سخت ترین حفاظتی حصار قائم کیے جائیں تاکہ وہ کسی بھی انسانی مداخلت کے بغیر خودمختار ہو کر خطرناک اقدامات نہ اٹھا سکیں۔ میٹا کی جانب سے اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد کمپنی کے اندرونی سکیورٹی پروٹوکولز کا بھی از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے ناگوار اور غیر متوقع واقعات کو روکا جا سکے۔