Business
عالمی منڈی: امریکہ ایران کشیدگی تھمنے پر تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے آخر میں کشیدگی میں عارضی وقفے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال سے عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب ایران پر حملوں میں عارضی وقفے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے آخر میں لڑائی رکنے کے بعد تیل کے داموں میں چھ فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ اس پیشرفت نے دنیا بھر کے توانائی کے بازاروں کو ایک بڑی راحت فراہم کی ہے جو پچھلے کچھ دنوں سے شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی ایک انتہائی اہم تجارتی گزرگاہ ہے، جہاں سے تیل کی ترسیل کے متاثر ہونے کا خدشہ ہر وقت مارکیٹ پر اثر انداز رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس خطے میں کشیدگی کی وجہ سے سرمایہ کار شدید خوفزدہ تھے اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔ تاہم، واشنگٹن کی طرف سے حملوں میں وقفے کے اشارے اور مذاکرات کے امکانات روشن ہونے کے بعد، عالمی سطح پر کاروباری فضا میں بہتری آئی ہے اور اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
اس عارضی جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے آغاز سے عالمی معیشت کو وقتی طور پر بڑا سہارا ملا ہے۔ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے حوالے سے اب بھی کئی تحفظات موجود ہیں، لیکن فی الحال تیل کی سپلائی لائنز کے محفوظ رہنے کی توقع نے منڈیوں کے اعصاب کو پرسکون کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں فریقین کے درمیان بات چیت کی پیشرفت ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ توانائی کی مارکیٹ میں استحکام کتنا طویل عرصہ برقرار رہتا ہے۔