LIVE
Loading Breaking News...

مارک زکربرگ کی بھارت سے معافی کی اصل وجہ سامنے آ گئی

News Image
بھارت کے سیاسی عمل میں غیر ضروری اور ناقابل قبول مداخلت پر میٹا کے بانی مارک زکربرگ کو معافی مانگنی پڑی تھی۔ بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ ترین مشیر نے ایک ویڈیو انٹرویو میں اس واقعے کی اندرونی کہانی آشکار کی ہے۔
سوشل میڈیا کی دنیا کی معروف ترین کمپنی میٹا (Meta) اور اس کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ کو ماضی میں بھارت سے باقاعدہ معافی مانگنا پڑی تھی۔ بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ ترین قریبی مشیر نے حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یہ معافی کیوں ناگزیر ہو گئی تھی۔ حکومتی عہدیدار کے مطابق، میٹا کی جانب سے بھارت کے اندرونی سیاسی عمل میں کی جانے والی مداخلت بالکل ناقابل قبول تھی، جس پر حکومت نے سخت مؤقف اپنایا اور کمپنی کو اپنے رویے پر معذرت کرنا پڑی۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے سیاسی مباحثوں اور انتخابی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوششوں کے شواہد سامنے آئے۔ بھارتی حکومت نے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ضابطہ اخلاق کو انتہائی سخت کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ ملکی سیاست اور جمہوریت میں کسی بھی قسم کی بیرونی یا کارپوریٹ مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس تنازع کے نتیجے میں میٹا کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا پڑا اور مارک زکربرگ کو اس متنازعہ مداخلت پر معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ٹیکنالوجی اور سیاست کے اس سنگم پر ہونے والے ان انکشافات نے ایک بار پھر دنیا بھر میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں کس طرح دنیا بھر کے جمہوری ملکوں کے انتخابی عمل اور سیاسی منظر نامے کو متاثر کرتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا الگورتھمز اور مواد کی ماڈریشن کے نام پر ہونے والی مداخلتیں جمہوریت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں، اور بھارت کا یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اب حکومتیں ان ڈیجیٹلجنات کو لگام دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ فی الحال، اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد میٹا کی طرف سے کوئی نیا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس پر چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں دنیا بھر کے ممالک سوشل میڈیا کے سیاسی استعمال پر مزید سخت ضابطے نافذ کریں گے تاکہ کسی بھی پلیٹ فارم کو ملکی امور میں مداخلت کی اجازت نہ مل سکے۔