Technology
ڈیپ فیک اور اے آئی کے نئے سخت قوانین نافذ، سوشل میڈیا کے لیے احکامات جاری
حکومت نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے لیے واضح لیبلنگ لازمی قرار دے دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اب غیر قانونی مواد ہٹانے کے لیے صرف تین گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔
حکومت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیپ فیک اور اے آئی مواد کے حوالے سے قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت تمام ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر واضح لیبلنگ لگانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ عام صارفین باآانی شناخت کر سکیں کہ کون سا مواد اصلی ہے اور کون سا اے آئی کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔ حکومتی احکامات کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا اور ڈیجیٹل سپیس کو محفوظ بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا نقصان دہ مواد کو رپورٹ ہونے کے بعد محض تین گھنٹے کے اندر اندر پلیٹ فارم سے ہٹانے کے پابند ہوں گے۔ اس سخت تقاضے کا مقصد فوری طور پر ایسے مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے جو معاشرے میں بگاڑ یا کسی فرد کی توہین کا باعث بن سکتا ہے۔ حکمتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب سے تاخیر کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی حکومت نے ان نئے قوانین کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے بچوں کے استحصال پر مبنی مواد اور کسی بھی شخص کی شناخت چرا کر اسے دھوکہ دینے یا ڈیپ فیک کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال کرنے (امپرسنیشن) کے خلاف بھی سخت اقدامات شامل کر لیے ہیں۔ اس توسیع کا مقصد ان مکروہ رجحانات کا قلع قمع کرنا ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں سکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت نے شکایت کے ازالے کے نظام کے لیے بھی ٹائم لائنز کو بہتر بنایا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔