LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: پاکستان میں شرح سود غیر تبدیل شدہ رہنے کی توقع

News Image
موجودہ عالمی تناؤ اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی معاشی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ ماہرین کے مطابق ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے محتاط مالیاتی پالیسی کا جاری رہنا ناگزیر ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی معاشی ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنی آئندہ مالیاتی پالیسی میں شرح سود کو فی الحال برقرار رکھے گا۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی چین میں ممکنہ تعطل کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ماہرین کا ماننا ہے کہ مرکزی بینک کوئی بھی جرات مندانہ یا اچانک اقدام اٹھانے سے گریز کرے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں افراط زر کی شرح میں حالیہ مہونوں کے دوران کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور حکومت مہقابلے کو کنٹرول کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے اثرات پاکستان کے تجارتی خسارے اور درآمدی بل پر براہ راست پڑیں گے۔ ایسی صورتحال میں معاشی استحکام کو ترجیح دینا انتہائی ضروری ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس جلد متوقع ہے، جس میں ملکی و غیر ملکی اقتصادی اعشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ بزنس کمیونٹی اور سرمایہ کاروں کی نظریں بھی اس فیصلے پر مرکوز ہیں کیونکہ شرح سود میں تبدیلی سے کاروباری سرگرمیوں، قرضوں کی لاگت اور مجموعی سرمایہ کاری پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاشی ماہرین کا مشورہ ہے کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی چیلنجز کے مدنظر شرح سود کو مستحکم رکھا جائے تاکہ معیشت کو مزید جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔