Health
نئی ایم آر این اے فلو ویکسین کی منظوری اور اہم تفصیلات
صحت کے حکام نے کووڈ ویکسین جیسی متنازعہ ٹیکنالوجی پر مبنی پہلی فلو ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ پچاس سال سے زائد عمر کے بالغ افراد کو یہ نئی ویکسین لگوانے کی پرزور ہدایت کی گئی ہے۔
صحت کے عالمی اور ملکی حکام نے ایک اہم پیشرفت کے تحت پہلی بار ایسی فلو ویکسین کی منظوری دے دی ہے جو اسی متنازعہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو کووڈ کی وبا کے دوران ویکسینز میں استعمال کی گئی تھی۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے بدھ کے روز اس نئی ویکسین کے اجراء کا اعلان کیا گیا، جس کا مقصد فلو کے خلاف مدافعت کو مزید بہتر بنانا اور موسم سرما میں پھیلنے والی بیماریوں کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے۔ اس نئی پیشرفت نے طبی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ماضی میں کووڈ ویکسینز کے حوالے سے کافی بحث کا مرکز رہی ہے۔
نئی ہدایات کے مطابق پچاس سال سے زائد عمر کے تمام بالغ افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فلو کے اس نئے ٹیکے کو لازمی لگوائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر کے اس حصے میں قوت مدافعت کمزور ہونے لگتی ہے، جس کی وجہ سے فلو اور اس سے جڑپیچیدگیاں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس نئی ایم آر این اے ویکسین کے بارے میں طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ روایتی ویکسینز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کام کرتی ہے اور جسم میں وائرس کے خلاف بہتر مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فلو کے مختلف سٹرینز کے خلاف زیادہ مؤثر حفاظتی حصار تیار کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر کچھ حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس کے سائیڈ ایفیکٹس اور طویل المعاد اثرات کے حوالے سے۔ اس کے باوجود، ریگولیٹری اداروں کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز اور سائنسی شواہد کے بعد ہی اس ویکسین کو عام عوام کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ طبی محققین کا کہنا ہے کہ ویکسین کا یہ نیا طریقہ کار مستقبل میں دیگر بیماریوں کے خلاف ویکسینز کی تیاری میں بھی سنگ میل ثابت ہوگا۔
حکومت اور صحت کے اداروں کی جانب سے ملک بھر کے اسپیکرز اور کلینکس میں اس نئی ویکسین کی فراہمی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں بالخصوص بزرگ شہریوں میں اس حوالے سے آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ وہ وقت پر اپنی ویکسینیشن مکمل کر سکیں۔ محکمہ صحت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس نئی ویکسین کے استعمال سے آنے والے فلو کے سیزن میں ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی اور عوام کو بہتر طبی تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔