World
امریکہ غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا کی جانچ کرے گا
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ویزا کے حصول کے لیے درخواست دینے والے غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد ملک میں داخل ہونے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کی مزید بہتر اسکریننگ کرنا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایک نئی پالیسی کے تحت ویزا کے لیے درخواست دینے والے غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی حکام کو صحافیوں کے پس منظر اور ان کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں مزید جامع معلومات فراہم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر ویزا قوانین اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔
نئے ضابطوں کے تحت، غیر ملکی صحافیوں کو جو امریکہ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں یا وہاں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کے خواہشمند ہیں، انہیں اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز اور پروفائلز کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ امریکی حکام ان اکاؤنٹس کا جائزہ لے کر یہ طے کریں گے کہ آیا درخواست دہندہ کے خیالات یا سرگرمیاں کسی قسم کے سیکیورٹی خدشات کا باعث تو نہیں بنتی ہیں۔
صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے اس نوعیت کے اقدامات پر ہمیشہ بحث کی جاتی رہی ہے کیونکہ اس سے آزادی صحافت اور پرائیویسی کے حقوق پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملکی سلامتی اور بارڈر کنٹرول کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کی جانچ پڑتال ناگزیر ہو چکی ہے۔
امامِ وقت کی ان تبدیلیوں سے دنیا بھر کے صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جو امریکہ میں خبریں کور کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ اور اس کے صحافتی برادری پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، جس سے اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ اس نئے ضابطے پر کس حد تک عمل درآمد کیا جائے گا۔