LIVE
Loading Breaking News...

ٹامی کیرنز کا مصنوعی ذہانت اور ریگولیٹڈ انڈسٹریز پر اہم بیان

News Image
ٹامی کیرنز نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح Xtremepush جیسی کمپنیاں سخت قوانین والے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا رخ متعین کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریگولیٹڈ انڈسٹریز میں ٹیکنالوجی کا نفاذ روایتی طریقوں سے یکسر مختلف اور چیلنجز سے بھرپور ہوتا ہے۔
گلوبل کسٹمر انگیجمنٹ پلیٹ فارم 'ایکس کریم پش' (Xtremepush) کے کو فاؤنڈر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹامی کیرنز نے کہا ہے کہ آج کے دور میں ہم محض مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ خود کو ڈھال نہیں رہے ہیں، بلکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ سخت ضابطہ کار اور ریگولیٹڈ انڈسٹریز میں اس کی اصل شکل و صورت کیا ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کاروباری ادارے جو سخت سرکاری اور قانونی ضوابط کے تحت کام کرتے ہیں، ان کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال عام شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ٹامی کیرنز کے مطابق، ایکس کریم پش کا بنیادی مقصد ایسے کاروباری اداروں کو اپنے صارفین کے ساتھ بہتر اور مؤثر انداز میں رابطہ قائم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے، جہاں ڈیٹا کی رازداری اور حفاظتی اصول سب سے مقدم ہوتے ہیں۔ ریگولیٹڈ انڈسٹریز جیسے کہ مالیاتی خدمات، بینکنگ اور انشورنس کے شعبوں میں کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو اپناتے وقت سخت قوانین کی پاسداری کرنا لازمی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کا انضمام عام صارفین کی مارکیٹنگ سے مختلف ہوتا ہے۔ مزید برآں، ٹامی کیرنز نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت محض ایک عارضی رجحان نہیں ہے بلکہ یہ کاروباری دنیا کا مستقبل ہے۔ تاہم، اس مستقبل کی تشکیل میں کمپنیوں کو انتہائی محتاط رہنا ہوگا تاکہ وہ سکیورٹی اور ضابطہ کار کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کی کمپنی اس سمت میں مسلسل کام کر رہی ہے تاکہ ریگولیٹڈ شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری ادارے محفوظ اور موثر انداز میں اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنا سکیں۔