LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت سے غیر قانونی برطرفی اور طبی انکشاف پر قانونی کارروائی

News Image
طبی حالت یا حمل کی تفصیلات بتانے کے بعد ملازمت سے نکالے جانے والے ملازمین اب ریاست کے پاس تین سال کے اندر امتیازی سلوک کی شکایت درج کر سکتے ہیں۔ جے ایل جی لائرز کے ماہرین اس طرح کے قانونی معاملات میں ملازمین کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
ملازمت کے دوران اپنی کسی طبی حالت یا حمل کی تفصیلات اپنے آجر کو بتانے کے بعد غیر قانونی طور پر نوکری سے نکالے جانے والے ملازمین کو ایک اہم قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ حالیہ قانونی رہنمائی کے مطابق ایسے تمام متاثرہ ملازمین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ برطرفی کے تین سال کے اندر متعلقہ ریاستی اداروں کے پاس امتیازی سلوک کی شکایت درج کروا سکتے ہیں اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے اداروں میں ملازمین اپنی بیماری یا طبی مسائل کو پوشیدہ رکھتے ہیں کیونکہ انہیں ملازمت سے نکالے جانے کا خوف رہتا ہے، جو کہ بنیادی لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جے ایل جی لائرز (JLG Lawyers) کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، قانون ملازمین کو کام کی جگہ پر امتیازی سلوک سے بچانے کے لیے سخت ضابطے فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی آجر کسی ملازم کو اس کی طبی حالت کی بنیاد پر نوکری سے فارغ کرتا ہے تو یہ عمل غیر قانونی زمرے میں آتا ہے۔ متاثرہ افراد کے پاس یہ قانونی موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی برطرفی کے خلاف آواز اٹھائیں اور نقصان کا ازالہ حاصل کرنے کے لیے عدالتوں یا متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ قانونی چارہ جوئی کے لیے مقرر کردہ تین سال کی مدت کے اندر ہی شکایت درج کرنا ضروری ہے تاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ تمام ملازمین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کام کے حقوق سے آگاہ رہیں اور طبی انکشافات کے بعد کسی بھی غیر منصفانہ برطرفی کی صورت میں فوری طور پر قانونی ماہرین یا وکلاء سے مشاورت کریں تاکہ بروقت انصاف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔