LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں سعودی، موساد اور سی آئی اے کا جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب

News Image
یمنی سیکیورٹی فورسز نے غلاظت اور غزا میں جارحیت کے دوران مزاحمتی رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے ایک خطرناک بین الاقوامی جاسوسی نیٹ ورک کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس خفیہ اتحاد میں سعودی عرب، امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے عناصر شامل تھے۔
یمن کی مسلح افواج اور تحریک انصاراللہ نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے اندر سرگرم ایک خطرناک بین الاقوامی جاسوسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ نئی سامنے آنے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ جب یمنی افواج غزہ میں جاری جارحیت کے خلاف بحیرہ احمر میں اسرائیل کے خلاف موثر بحری ناکہ بندی کر رہی تھیں، اسی دوران یمن کی مزاحمتی قیادت کو ختم کرنے کے لیے ایک خفیہ اتحاد تشکیل دیا جا رہا تھا۔ اس خفیہ نیٹ ورک میں سعودی عرب، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے عناصر گٹھ جوڑ کر کے یمن کی اندرونی سلامتی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ رپورٹس کے مطابق اس پیچیدہ جاسوسی نیٹ ورک کا مقصد یمن کے عسکری اور سیاسی رہنماؤں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا اور اہم شخصیات کو نشانہ بنا کر ملک میں حکومت کی تبدیلی کا مذموم مشن مکمل کرنا تھا۔ تاہم، یمنی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان غیر ملکی ایجنٹوں کی تمام چالوں کو ناکام بنا دیا۔ یمنی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے دشمن قوتیں یمن کے اندرونی محاذ کو کمزور کرنا چاہتی تھیں تاکہ غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھنے والی یمنی آواز کو دبایا جا سکے۔ یمن کی طرف سے اس خفیہ سازش کے بے نقاب ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یمنی افواج کی جانب سے بحیرہ احمر میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جاری کارروائیوں سے بوکھلا کر یہ خفیہ نیٹ ورک فعال کیا گیا تھا تاکہ یمن کی عسکری قیادت کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یمنی قوم اور ان کی سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔