LIVE
Loading Breaking News...

انگلینڈ میں موٹاپے کی شرح میں ہوشربا اضافہ اور اس کے اثرات

News Image
انگلینڈ میں 1993 کے مقابلے میں موٹاپے کا شکار بالغ افراد کی تعداد میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سات ملین سے زائد افراد اس رجحان سے متاثر ہوئے ہیں۔
انگلینڈ میں صحت عامہ کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں 1993 کے بعد سے موٹاپے کی شرح میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ ترین طبی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اگر 1993 کے بعد سے موٹاپے کی شرح اسی سطح پر برقرار رہتی تو آج تقریباً سات ملین (ستر لاکھ) کم بالغ افراد اس مسئلے کا شکار ہوتے۔ اس ہوشربا اضافے نے طبی ماہرین اور حکومتی پالیسی سازوں کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے کیونکہ یہ براہ راست لوگوں کی مجموعی صحت اور طبی نظام پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جدید طرز زندگی، ورزش کی کمی، اور غیر معیاری و فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال اس صورتحال کے بنیادی اسباب میں شامل ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں بڑھتی ہوئی سہولیات اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان انسانوں کو موٹاپے کے قریب لے جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بازاری کھانوں میں کیلوریز کی زیادہ مقدار اور گھر کے بنے ہوئے صحت بخش کھانے سے دوری بھی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے، جس کے نتائج معاشرے کے ہر طبقے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ موٹاپے کی اس وبائی شکل نے این ایچ ایس (NHS) یعنی قومی صحت کے نظام پر بھی بوجھ بڑھا دیا ہے، کیونکہ موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر پیچیدہ بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے عوام میں صحت مند طرز زندگی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان اقدامات کو مزید موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس بڑھتے ہوئے طوفان کو روکا جا سکے اور آنے والی نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔