LIVE
Loading Breaking News...

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال، مذاکرات ناکام

News Image
حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکرز آپریٹرز نے اپنی خدمات معطل کر دی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت کے ساتھ اہم مذاکرات ناکام ہونے کے نتیجے میں ملک بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکرز آپریٹرز نے جمعہ کی رات سے اپنی خدمات معطل کرنے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد ہفتے کے روز سے باقاعدہ ملک گیر پہیہ جام ہڑتال شروع ہو گئی ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے ترجمان اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار رہنے کے بعد ٹرکوں، ٹریلرز، خوردنی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے آئل ٹینکرز سمیت تمام بین الصوبائی ٹرانسپورٹرز نے اپنے پہلے سے طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو اپنے تمام مسائل اور تحفظات سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کر دیا ہے اور یہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے تمام جائز مطالبات منظور نہیں کر لیے جاتے تاہم وفاقی وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان کے مطالبات پر دوبارہ غور کریں گے اور پیر کی صبح مذاکرات کا اگلا دور منعقد ہوگا۔ متحدہ ٹرانسپورٹ باڈی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ محض ایک علامتی ہڑتال نہیں بلکہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والا پہیہ جام احتجاج ہوگا، جس کے تحت ملک بھر میں تجارتی مال بردار گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا کر مقررہ مقامات پر کھڑی کر دی گئی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے اہم اور بنیادی مطالبات میں ملک بھر میں ایکسل لوڈ کی حدود کا یکساں نفاذ، دس پہیوں والی گاڑیوں کو پینتیس ٹن تک وزن لے جانے کی اجازت، ڈیزل کی قیمتوں اور ٹول ٹیکس میں کمی کے علاوہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنا شامل ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کسٹم قوانین کے ان دفعات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے جن کے تحت حکام کو کسٹم قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سامان سے بھری گاڑیوں کو ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے پنجاب ہائی وے پٹرول کی جانب سے تجارتی گاڑیوں کے چالان کرنے کے اختیارات کے خاتمے، موٹرویز اور ہائی ویز پر غیر ضروری چالان اور بھاری جرمانوں کے استبدادی سلسلے کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے جبکہ ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے لیے لائسنسوں کے اجراء کے عمل کو آسان بنانے کے لیے بھی اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔