LIVE
Loading Breaking News...

میر علی رضا کیس: سندھ حکومت کی جانب سے تیسرا میڈیکل بورڈ تشکیل

News Image
سندھ حکومت نے متنازع پوسٹ مارٹم کے معاملات کے بعد 25 سالہ میر علی رضا کی لاش کی قبر کشائی کے لیے آٹھ رکنی نیا اور تیسرا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ یہ کارروائی ہفتے کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں انجام دی جائے گی۔
کراچی میں 25 سالہ کاروباری نوجوان میر علی رضا کی موت کے معاملے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں سندھ حکومت نے تمام پچھلے نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے ایک نیا آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس تنازع کے بعد سامنے آیا ہے جب متوقع قبر کشائی کو لواحقین کے اعتراضات اور میڈیکل بورڈ کی اچانک تبدیلی کی وجہ سے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب یہ کارروائی ہفتے کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی کی نگرانی میں عمل میں لائی جائے گی۔ اس نئے بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کر رہی ہیں جبکہ اس میں مختلف جامعات کے ماہر پیتھالوجسٹس اور فرانزک ماہرین شامل کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ کراچی کی ایک عدالت نے مقتول کے والد کی درخواست پر قبر کشائی کی اجازت دی تھی تاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب تصاویر میں پائے جانے والے مبینہ تضادات کو دور کیا جا سکے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اسے خودکشی یا مالی مشکلات کا شاسانہ قرار دیا تھا تاہم پولیس سرجن کے بیانات نے تفتیش کو نئے رخ پر ڈال دیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے انکشاف کیا تھا کہ لاش پر موجود گولی کے داخل اور خارج ہونے والے زخموں اور ان کی پوزیشن میں کچھ سائنسی ابہام پائے جاتے ہیں جو ابتدائی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس متنازع صورتحال نے تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھائے تھے جس کے بعد عدالت سے رجوع کیا گیا۔ اب تشکیل دیا جانے والا یہ نیا اور آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ تمام سائنسی اور طبی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے میر علی رضا کی لاش کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا تاکہ موت کی اصل وجوہات کا حتمی طور پر تعین کیا جا سکے اور لواحقین کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔