LIVE
Loading Breaking News...

عالمی جاسوسی کا نیا دور انتھونی ونچی قومی سلامتی

News Image
نیشنل جیو اسپاٹیشل انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر انتھونی ونچی نے عالمی جاسوسی کے نئے دور پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے مائیکل ایلن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے موجودہ قومی سلامتی کے چیلنجز اور جدید ٹیکنالوجی کے اثرات کا جائزہ لیا۔
عالمی جاسوسی کے میدان میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی نے اس شعبے کو ایک بالکل نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نیشنل جیو اسپاٹیشل انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر اور سینٹر فار نیو امریکن سیکیورٹی کے ایڈجنٹ سینئر فیلو انتھونی ونچی نے ایک اہم مباحثے میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے مائیکل ایلن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح روایتی جاسوسی کے طریقے اب فرسودہ ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ جدید ڈیجیٹل اور خلائی ٹیکنالوجیز لے رہی ہیں۔ گفتگو کے دوران انتھونی ونچی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں قومی سلامتی کے ادارے کئی طرح کے پیچیدہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈیٹا کے بے پناہ پھیلاؤ، مصنوعی ذہانت اور جیو اسپاٹیشل انٹیلی جنس نے دنیا بھر میں انٹیلی جنس کے طریقہ کار کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ریاستوں کے ساتھ ساتھ نجی ادارے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز بھی عالمی سطح پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جس سے سیکیورٹی کے روایتی تصورات کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں سائبر اسپیس اور خلائی اثاثے عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا سب سے بڑا میدان بنیں گے۔ انتھونی ونچی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ دنیا بھر کی حکومتوں اور سلامتی کے اداروں کو وقت کے ساتھ چلنے کے لیے اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف تکنیکی مہارت کو بہتر بنانا ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر تعاون کو بھی فروغ دینا ناگزیر ہے۔