Health
موڈرنا کی پہلی mRNA فلو ویکسین کو ایف ڈی اے کی جانب سے منظوری
امریکی ایف ڈی اے نے موڈرنا کی تیار کردہ پہلی ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی فلو ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ویکسین خاص طور پر معمر افراد میں انفلوئنزا کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
امریکی ادارہ برائے خوراک و ادویات (FDA) نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسی فلو ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے جو جدید 'میسنجر آر این اے' (mRNA) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ معروف بائیو ٹیکنالوجی کمپنی موڈرنا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ ویکسین خاص طور پر 65 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ انہیں موسمی فلو کے شدید اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جس کا استعمال کووڈ-19 کے دوران ویکسینز کی تیاری میں کیا گیا تھا، اور اب اسے انفلوئنزا کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
ماہرین صحت کے مطابق، یہ منظوری طبی شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ روایتی فلو ویکسینز کے برعکس، ایم آر این اے ٹیکنالوجی جسم کو وائرس کے پروٹین خود بنانے کا طریقہ سکھاتی ہے، جس سے جسم کا مدافعتی نظام وائرس کے خلاف زیادہ مضبوطی سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل فلو ویکسینز کی تیاری میں انڈوں یا سیل کلچرز کا استعمال کیا جاتا تھا جس میں کافی وقت لگتا تھا، تاہم ایم آر این اے طریقہ کار نہ صرف تیز تر ہے بلکہ اسے تیزی سے تبدیل ہونے والے وائرس کے مطابق ڈھالنا بھی آسان ہے۔ موڈرنا کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین ان معمر افراد کے لیے ایک امید کی کرن ہے جن کا مدافعتی نظام عمر کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اگرچہ اس ویکسین کی منظوری کو طبی برادری کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، تاہم ایف ڈی اے نے اسے استعمال کرنے والے افراد کی نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ ویکسین امریکی مراکز صحت میں دستیاب ہونا شروع ہو جائے گی۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے نہ صرف سالانہ فلو سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جا سکے گی بلکہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بھی کافی حد تک کم ہوگا۔ کمپنی اب اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ کیسے اس ٹیکنالوجی کو دیگر وائرل بیماریوں کے تدارک کے لیے مزید وسیع پیمانے پر استعمال میں لایا جائے۔