LIVE
Loading Breaking News...

میساٸل کی قلت اور دفاعی بجٹ میں اضافے کا جائزہ

News Image
ایرانی تنازع کے باعث گولہ بارود کی کمی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جنہیں ممکنہ طور پر فوجی بجٹ میں بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا مقصد دفاعی معاہدوں کو تیز کرنا اور عسکری اخراجات کو بڑھانا ہے۔
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا میں یہ رپورٹس سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعات کی وجہ سے اہم عسکری ساز و سامان اور گولہ بارود کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ان رپورٹس کو بعض حلقوں میں ایک ایسے بہانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافے کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی خبریں دراصل عسکری صنعتوں اور ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کا ایک سوچی سمجی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب بھی کسی خطے میں جنگ یا تنازع کا ماحول بنتا ہے، تو دفاعی ساز و سامان کی طلب میں یکدم اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکری ادارے اور دفاعی کمپنیاں مزید فنڈز حاصل کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی میزائلوں اور دیگر دفاعی آلات کی ممکنہ کمی کا رونا رو کر نئے اور بڑے معاہدوں کو تیز رفتاری سے منظور کرانے کی کوشش کی جا रही ہے تاکہ بجٹ کے حجم کو مزید پھیلایا جا سکے۔ دوسری جانب، اس پالیسی پر کئی حلقوں کی طرف سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربے صرف دفاعی اخراجات کو غیر ضروری طور پر بڑھانے اور مخصوص صنعتی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوامی فلاح و بہبود کے دوسرے اہم شعبوں کے لیے فنڈز میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو کہ طویل مدت میں ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومتیں اس مبینہ قلت کے پیش نظر کیا فیصلے کرتی ہیں اور آیا دفاعی بجٹ میں اضافے کے مطالبات کو کس حد تک قبول کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ عسکری امور اور بجٹ کی تخصیص کا یہ معاملہ آنے والے وقت میں مزید بحث اور گرما گرم بحث کا مرکز بنے گا، جس پر عالمی سطح پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔