Business
DOGE کے مالیاتی اخراجات میں کٹوتی کے دعووں پر سوالات
ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ محکمہ DOGE کی جانب سے اخراجات میں کٹوتی کے اربوں ڈالر کے دعوے ناقابل تصدیق ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔
امریکہ میں ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کو حال ہی میں سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ نے ان کے 110 ارب ڈالر کے اخراجات میں کٹوتی کے دعووں پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ جب اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تو اس کا بنیادی مقصد وفاقی اخراجات میں کھربوں ڈالر کی کٹوتی کرنا اور سرکاری مشینری کو زیادہ شفاف اور موثر بنانا تھا۔ تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے درکار دستاویزی ثبوت یا رسیدیں موجود نہیں ہیں، جس سے اس پورے اقدام کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر اتنی بڑی رقم کی کٹوتی کے دعوے کرنا اور پھر ان کی تصدیق نہ ہونا انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق، محکمہ DOGE کی جانب سے جن منصوبوں کو کٹوتی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، ان کے بارے میں کافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بہت سے کیسز میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بچت کس طرح ممکن ہوئی اور کیا یہ واقعی حکومتی خزانے میں جمع ہوئی یا نہیں۔ یہ صورتحال ان ناقدین کے لیے ایک مضبوط دلیل بن گئی ہے جو پہلے ہی اس ادارے کے قیام اور اس کے طریقہ کار پر تنقید کر رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس انکشاف کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو عوامی سطح پر وضاحتیں دینی پڑیں گی، کیونکہ ان کی انتخابی مہم کے دوران اخراجات میں کمی کا وعدہ ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا تھا۔
اس معاملے پر ایلون مسک کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی مشینری کو درست کرنے کے لیے سخت اقدامات کی حمایت کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف شفافیت کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آڈٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی اداروں کے پاس ان کٹوتیوں کے حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں ملا جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ 110 ارب ڈالر کی رقم کہاں سے اور کیسے بچائی گئی۔ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں کانگریس میں بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے جہاں قانون ساز انتظامیہ سے جواب طلبی کر سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ محکمہ DOGE کی جانب سے کیے گئے دعوے اب ایک سیاسی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اگر یہ اعدادوشمار تصدیق نہیں کیے جا سکے تو یہ نہ صرف موجودہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامی تصور ہوگی بلکہ مستقبل میں بھی حکومتی اخراجات میں کمی کے منصوبوں پر اعتماد کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ عوام اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرکاری اخراجات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کا صحیح استعمال ثابت ہو سکے۔