LIVE
Loading Breaking News...

افغان خواتین کی پامالی اور عالمی برادری کی خاموشی

News Image
افغانستان میں طالبان کی حکومت کو پانچ سال بیت چکے ہیں اور افغان خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر محض مذمتی بیانات کے علاوہ کوئی مؤثر عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
پانچ سال قبل جب افغانستان میں ایک بار پھر سے اقتدار کی تبدیلی عمل میں آئی اور طالبان کابل پر قابض ہوئے تو پوری دنیا نے اس منظر کو شدید صدمے اور حیرت کے ساتھ دیکھا۔ کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں مایوس افغان شہریوں کی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنیں جو کسی بھی طرح اس ملک سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے جس کا مستقبل ایک ہی رات میں اندھیروں میں ڈوب چکا تھا۔ مبصرین کا ماننا تھا کہ اس بار دنیا افغان خواتین پر ہونے والے مظالم اور ان کے حقوق سلب کیے جانے پر خاموش نہیں رہے گی، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ حالات اس کے برعکس نکلے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کی توجہ اس سنگین انسانی بحران سے ہٹتی چلی گئی۔ اگرچہ مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً بیانات جاری کیے جاتے رہے اور پابندیوں کا سلسلہ بھی کچھ حد تک برقرار رکھا گیا، لیکن عملی طور پر افغان خواتین اور بچیوں کے حقوق کی بحالی کے لیے کوئی بھی مضبوط یا فیصلہ کن حکمت عملی طے نہیں کی جا سکی۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے لڑکیوں کے لیے بند کر دیے گئے، اور بتدریج انہیں پبلک سیکٹر سمیت تمام اہم شعبہ جات سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ دنیا نے بظاہر افغان خواتین کی اس غیر اعلانیہ اور جبری معزولی کو معمول کی زندگی کا حصہ تسلیم کر لیا ہے۔ بین الاقوامی سفارتی سطح پر دیگر اہم اور بڑے عالمی تنازعات نے افغان خواتین کے اس سلگتے ہوئے مسئلے کو پسِ منظر میں دھکیل دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ اس اجتماعی خاموشی کے نتائج افغانستان کی آنے والی نسلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے، کیونکہ نصف آبادی کو تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر کسی بھی ملک کی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔