LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرولیم لیوی اور ڈیزل کی قیمتوں کا تجزیہ

News Image
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل پر لاگو پیٹرولیم لیوی کی موجودہ شرح خلیجی بحران سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اور پیٹرولیم لیوی کا معاملہ مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ حال ہی میں ماہرین معاشیات خرم شہزاد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈیزل پر لاگو پیٹرولیم لیوی کی موجودہ شرح اب بھی خلیجی بحران سے قبل کی سطح کے مقابلے میں کافی نیچے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے لیوی کے تعین میں احتیاط برتی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے حالیہ عرصے میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کی گئی ہے۔ کبھی پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے سے زائد کی کمی کی گئی تو کبھی عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے معمولی اضافہ کیا گیا۔ یہ اقدامات بنیادی طور پر عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں اٹھائے جاتے ہیں تاکہ مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی استحکام برقرار رہے۔ پیٹرولیم لیوی کو بجٹ اہداف کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم اس کی شرح کو اس طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے کہ صارفین پر براہ راست اثرات کو کم سے کم رکھا جائے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کا تھوڑا سا تغیر بھی ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ڈیزل پر لیوی کی شرح کا کم رہنا ٹرانسپورٹ کے شعبے اور زرعی مشینری کے لیے ایک طرح سے معاون ثابت ہوتا ہے، کیونکہ ڈیزل کا استعمال معیشت کے ان اہم ستونوں میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت اس لیوی کو ایک حد سے زیادہ بڑھاتی ہے تو اس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آتی، پاکستان کو اپنی پیٹرولیم پالیسی میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔ خرم شہزاد کے مطابق لیوی کی موجودہ سطح اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت قیمتوں کے تعین میں عوام کے مفاد کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔ مستقبل میں عالمی منڈی کے حالات اور ملکی مالیاتی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہی معاشی بہتری کی کلید ہو گا۔