LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مون سون کی تباہ کاریاں، ہلاکتیں 151 تک پہنچ گئیں

News Image
ملک بھر میں جاری مون سون کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں اب تک 151 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ این ڈی ایم اے نے اگست کے مہینے میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد چشمہ اور جناح بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔
پاکستان میں جاری مون سون کی طویل اور شدید بارشوں نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک ملک بھر میں مختلف حادثات اور سیلابی صورتحال کے باعث جان بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 151 تک جا پہنچی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مکانات گرنے، کرنٹ لگنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جبکہ ریلیف کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ادھر دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے باعث چشمہ اور جناح بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ پانی کی سطح بڑھنے سے قریبی نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ لیہ نالے میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ الرٹ پر ہے۔ چترال سمیت کئی پہاڑی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے حکومت سے باقاعدہ 'آفت زدہ' قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ فوری طور پر بحالی کے فنڈز جاری کیے جا سکیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگست کے مہینے میں بھی مون سون کی مزید بارشوں کا امکان ہے، جو ملک کے مختلف حصوں میں سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ نشیبی علاقوں کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ضلعی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔ انسانی ہمدردی کی تنظیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی تکالیف کو کم کیا جا سکے۔