LIVE
Loading Breaking News...

روس یوکرین جنگ: یوکرین کا روسی ای کامرس دیو وائلڈ بیریز پر حملہ

News Image
یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی میں شدت آ گئی ہے جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ دوسری جانب یوکرین نے روسی ای کامرس کمپنی وائلڈ بیریز کے لاجسٹکس مراکز کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ کے دوران کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس میں دونوں جانب سے شدید حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یوکرین کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دونوں ممالک اپنی فوجی حکمت عملیوں کو مزید جارحانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہری مراکز اور تنصیبات پر ہونے والی ان بمباریوں نے علاقے میں انسانی بحران کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، یوکرینی فوج نے روس کی معیشت اور رسد کے نظام کو کمزور کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روس کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارم 'وائلڈ بیریز' (Wildberries) کے گوداموں اور لاجسٹکس مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کیف کا موقف ہے کہ یہ مراکز صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ماسکو کی جنگی کوششوں میں براہ راست مدد فراہم کر رہے ہیں اور روسی فوج کی سپلائی لائن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وائلڈ بیریز جیسے بڑے اداروں کو نشانہ بنانا یوکرین کی جانب سے روس کی اقتصادی طاقت پر کاری ضرب لگانے کی کوشش ہے۔ اس طرح کے حملے روس کی داخلی لاجسٹکس اور سپلائی چین کو شدید متاثر کر سکتے ہیں، جس سے روسی فوج کی آپریشنل صلاحیتوں میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ یوکرین کا اصرار ہے کہ جب تک جنگ جاری رہے گی، وہ ان تمام تنصیبات کو اپنا ہدف بناتا رہے گا جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر روسی جارحیت میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب، روسی حکام نے یوکرین کے ان دعووں اور حملوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کریملن کی جانب سے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیا گیا ہے اور بدلہ لینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ عالمی برادری نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جنگ رکنے کے بجائے مزید وسیع تر ہوتی جا رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین اور علاقائی استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔