Technology
امریکہ میں ICE کی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اور انسانی حقوق
امریکہ میں امیگریشن حکام کی جانب سے ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نگرانی کے جدید ذرائع تارکین وطن کے خلاف غیر منصفانہ کارروائیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے تارکین وطن کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، انتظامیہ ڈیجیٹل نگرانی کے جدید نظاموں کا سہارا لے رہی ہے جس سے نجی زندگی کے تقدس اور تارکین وطن کے بنیادی حقوق پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ڈیلاویئر ہال جیسے حراستی مراکز میں نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح سرکاری ادارے اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تارکین وطن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا، ان کی ڈیجیٹل پروفائلنگ اور مواصلاتی ڈیٹا تک رسائی، ICE کے لیے ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس پر احتساب کا کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال میں خدشہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انفرادی آزادیوں کو سلب کرنے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ نیو جرسی اور دیگر مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی ICE کے حکام کی جانب سے مشکوک سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال کی تصدیق کرتی ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امیگریشن کے معاملات میں نگرانی کے ان جدید ٹولز کے استعمال کے لیے شفافیت اور قانونی حدود کا تعین کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی نگرانی کے استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف تارکین وطن کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ پورے معاشرے میں جاسوسی کا ایک ایسا کلچر پروان چڑھے گا جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ امریکی انتظامیہ کو اب یہ بتانا ہوگا کہ کیا یہ ٹیکنالوجی صرف سیکیورٹی مقاصد کے لیے ہے یا اسے سیاسی جبر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔