World
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں، کامیکازی ڈرونز کا استعمال
امریکی میرین کور نے جنوبی کوریا میں منعقدہ ایک لائیو فائر مشق کے دوران ایف پی وی حملہ آور ڈرونز کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا۔ اس مشق کا مقصد جدید جنگی ٹیکنالوجی اور ڈرون حملوں کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔
جنوبی کوریا کے شہر پوچیون میں امریکی میرینز نے ایک اہم فوجی مشق کے دوران 'نیروز آرچر' نامی ایف پی وی (فرسٹ پرسن ویو) حملہ آور ڈرونز کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مشقیں خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی جنگی صورتحال اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیکازی ڈرونز، جو کہ خودکش حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں، اب جدید جنگی حکمت عملی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔
اس لائیو فائر مشق کے دوران امریکی میرینز نے ڈرون آپریٹرز کی مہارتوں کو پرکھا اور دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جدید مواصلاتی آلات کا بھرپور استعمال کیا۔ نیروز آرچر ڈرون، جو اپنی درست نشانے بازی اور کم قیمت ہونے کی وجہ سے مشہور ہے، کو میدان جنگ میں انتہائی مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ اس تجربے کا مقصد نہ صرف امریکی فوج کی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے بلکہ اتحادی افواج کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا بھی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت جوابی کارروائی کی جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جزیرہ نما کوریا میں سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ڈرون ٹیکنالوجی میں ہونے والی یہ جدت آنے والے وقتوں میں بری اور فضائی فوجوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرے گی۔ مشق کے دوران ڈرونز نے مختلف ہدفوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکی میرینز جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو تیزی سے اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔
خطے کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کی فوجی مشقیں صرف دفاعی نوعیت کی حامل ہیں، تاہم یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ مستقبل میں اس قسم کی ڈرون ٹیکنالوجی کو مزید جدید بنایا جائے گا تاکہ جاسوسی اور حملہ آور کارروائیوں میں ڈرونز کا کردار مزید مستحکم ہو سکے۔