LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سی ڈی سی: ڈاکٹر ایریکا شوارٹز کا اسقاط حمل کی ڈیٹا نگرانی پر بڑا بیان

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی ڈی سی کی نئی ڈائریکٹر کے طور پر نامزد ڈاکٹر ایریکا شوارٹز نے اسقاط حمل کی نگرانی کو بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس بیان پر سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور اسے پرائیویسی کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے سربراہ کے عہدے کے لیے نامزد کردہ ڈاکٹر ایریکا شوارٹز نے ایک متنازع بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بدھ کے روز اپنی تصدیقی سماعت کے دوران، ڈاکٹر شوارٹز نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اسقاط حمل سے متعلق نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم اور بہتر بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے اس بیان نے امریکی سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ حکومت انفرادی سطح پر اسقاط حمل کے اعداد و شمار تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ماہرین کے مطابق ڈاکٹر ایریکا شوارٹز کی تجویز کردہ پالیسی کا مقصد حکومت کو اس بات سے آگاہ رکھنا ہے کہ کس شہری نے کب اور کہاں اسقاط حمل کی سہولت حاصل کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قدم شہریوں کی نجی زندگی میں براہ راست مداخلت کے مترادف ہے اور یہ پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اس طرح کے حساس ڈیٹا کو جمع کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کا عمل شروع کرتی ہے، تو یہ مستقبل میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گا، جسے کچھ لوگ ایک ڈسٹوپین یا غیر انسانی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شوارٹز کی جانب سے اس عزم کے اظہار کے بعد امریکی کانگریس کے اندر بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کے مابین اس معاملے پر سخت اختلاف رائے متوقع ہے۔ ایک جانب جہاں قدامت پسند حلقے اس پالیسی کو صحت عامہ کے ڈیٹا کی شفافیت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، وہیں دوسری جانب انسانی حقوق کے علمبرداروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بنیادی طور پر خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے طبی فیصلوں کو ریاست کے زیر اثر لانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر ایریکا شوارٹز کی تقرری کی تصدیق کے دوران انہیں اس موضوع پر کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فی الحال، یہ معاملہ پورے امریکہ میں بحث کا مرکز بن چکا ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ صحت کے اداروں کا بنیادی کام بیماریوں کا خاتمہ ہونا چاہیے نہ کہ شہریوں کے نجی طبی فیصلوں پر کڑی نگرانی کرنا۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کی تفصیلات سامنے آنے پر مزید ہنگامہ آرائی اور عوامی مظاہروں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔