Technology
اے آئی کا کمال: مصنوعی ذہانت نے 16 نئے وائرس ایجاد کر لیے
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک جدید اے آئی ماڈل کو ڈی این اے پیٹرنز سیکھنے کی تربیت دی جس کے نتیجے میں مشین نے 16 نامعلوم وائرس تخلیق کر لیے۔ یہ پیشرفت بائیو ٹیکنالوجی اور طبی تحقیق کے شعبے میں ایک انقلابی سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
حال ہی میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا سائنسی کارنامہ سرانجام دیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ محققین نے اوپن اے آئی کے ایک جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کو بیکٹیریا کو متاثر کرنے والے وائرسوں کے ڈی این اے ڈھانچے کے پیٹرنز سیکھنے کی تربیت فراہم کی۔ تربیت کے اس منفرد تجربے کے بعد، اے آئی ماڈل نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16 ایسے بالکل نئے وائرس ایجاد کر لیے جو قدرتی طور پر پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ یہ پیشرفت بائیو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آیا مشینیں اب حیاتیاتی کوڈ لکھنے کے قابل ہو چکی ہیں۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ کیا مصنوعی ذہانت پیچیدہ جینیاتی کوڈ کو سمجھ کر اسے نئے سرے سے ترتیب دے سکتی ہے یا نہیں۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ اے آئی ماڈل نے نہ صرف موجودہ وائرسوں کے پیٹرنز کو سمجھا بلکہ ان کی بنیاد پر ایسی نئی جینیاتی ترتیب تیار کی جو بیکٹیریا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ وائرسوں کے ارتقاء کو سمجھنے اور مستقبل میں خطرناک جراثیم کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی ادویات کی تیاری میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس ایجاد نے بائیو سیفٹی اور اخلاقی تحفظات کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر اے آئی اس رفتار سے جینیاتی مواد تخلیق کرتا رہا تو طبی سائنس میں ادویات کی تیاری کا عمل کئی گنا تیز ہو جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی کینسر کے علاج اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت (Antibiotic Resistance) کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، سائنسدانوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی سخت نگرانی میں کیا جانا چاہیے تاکہ مصنوعی طور پر تیار کردہ ان وائرسوں کا کوئی غلط استعمال نہ ہو سکے۔ آنے والے دنوں میں مزید تجربات سے یہ واضح ہو گا کہ کیا یہ مصنوعی وائرس انسانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں یا ان کے اثرات کا گہرائی سے جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔