LIVE
Loading Breaking News...

برسبین ایکا شو: 150 سالہ تاریخ اور مستقبل کے اہداف

News Image
آسٹریلیا کے شہر برسبین میں منعقد ہونے والا تاریخی 'ایکا' شو اپنی 150 ویں سالگرہ منا رہا ہے، جس میں روایات اور جدیدیت کا حسین امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شہری ترقی کے باوجود اس شو کا دیہی اور ثقافتی مزاج بدستور برقرار رکھا جائے گا۔
آسٹریلیا کے شہر برسبین میں منعقد ہونے والا مشہور زمانہ 'ایکا' (Ekka) شو، جسے کوئنزلینڈ کا سب سے بڑا سالانہ ایونٹ سمجھا جاتا ہے، اس سال اپنی تاریخ کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ اس تاریخی موقع پر منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ایونٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے باوجود اس کی روایتی دیہی پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ میلہ جو کہ کئی دہائیوں سے شہر اور دیہی علاقوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہا ہے، آج بھی لاکھوں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ برسبین کے اطراف میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری تعمیرات اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی کے باوجود، ایکا کی روح بدستور زندہ ہے۔ شو گراؤنڈز کے ارد گرد بڑھتی ہوئی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان بھی ایکا اپنے پرانے دیہی رنگ ڈھنگ کو محفوظ رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انتظامیہ نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شرکاء کے تجربے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان سرگرمیوں کو بھی شامل کیا ہے جو آسٹریلوی ثقافت اور زراعت کی عکاسی کرتی ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سو برسوں میں اس شو نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں، لیکن اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ آج بھی یہاں جانوروں کی نمائش، زرعی مصنوعات کے مقابلے، اور تفریحی سرگرمیوں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے جو ہر عمر کے افراد کو اپنی طرف کھینچ لاتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے منتظمین نے کہا کہ اگلی دہائیوں میں بھی ایکا اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے نئی نسل کو آسٹریلیا کی زرعی تاریخ اور دیہی ورثے سے جوڑے رکھے گا۔ اس تاریخی سنگ میل پر مقامی حکومت اور شہریوں کی جانب سے بھی بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ایکا شو نہ صرف معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا ذریعہ ہے بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی اور تفریح کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ اس 150 سالہ سفر کو یادگار بنایا جا سکے اور آنے والی نسلوں کو اس اہم ثقافتی ورثے کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔