LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ سولر پینلز پر ٹیرف میں تاخیر کا امکان: تازہ ترین صورتحال

News Image
ٹرمپ انتظامیہ سولر پینلز اور پولی سیلیکون سے بنی اشیاء پر عائد کردہ محصولات کی وصولی کو چند ماہ تک مؤخر کرنے کے آپشن کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی رفتار کو برقرار رکھنا اور درآمد کنندگان کو اضافی وقت فراہم کرنا ہے۔
امریکہ کی موجودہ ٹرمپ انتظامیہ سولر پینلز اور پولی سیلیکون سے تیار کردہ دیگر اہم اشیاء پر عائد کیے جانے والے محصولات کی وصولی کو چند ماہ تک مؤخر کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ بنیادی طور پر ان خدشات کے پیش نظر کیا جا رہا ہے کہ فوری طور پر بھاری محصولات کے نفاذ سے ملک میں جاری قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے صنعت کو شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایک مرحلہ وار نفاذ کا منصوبہ درآمد کنندگان اور توانائی کمپنیوں کے لیے زیادہ سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ محصولات کی وصولی میں اس ممکنہ تاخیر کو ایک 'فیز-اِن' پیریڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دوران کمپنیاں اپنی سپلائی چین کو بہتر بنانے اور درآمدات کے حجم کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے وقت حاصل کر سکیں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تاخیر نافذ کی جاتی ہے تو اس سے مقامی مارکیٹ میں درآمدات کی ایک بڑی لہر دیکھنے میں آ سکتی ہے کیونکہ کمپنیاں موجودہ رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اسٹاک کو مکمل کرنا چاہیں گی۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے اہم ہے جو امریکی سرزمین پر بڑے پیمانے پر سولر پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں اور جنہیں پرزہ جات کی بروقت فراہمی درکار ہے۔ دوسری جانب، یہ پیشرفت امریکی تجارتی پالیسی کے ایک اہم موڑ کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ایک طرف ملکی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے ٹیرف ضروری سمجھے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف صاف توانائی کے اہداف کے حصول کے لیے سستے خام مال کی دستیابی بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں تاکہ ٹیرف کے نفاذ سے گرین انرجی سیکٹر کے اہداف متاثر نہ ہوں۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس حوالے سے حتمی لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے، جس پر صنعت کاروں کی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف امریکی سولر مارکیٹ بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی براہ راست اثرات مرتب کرے گا۔