LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں پانی کا بحران اور شہریوں کی مشکلات

News Image
غزہ میں جاری جنگ کے باعث پانی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال سے مقامی آبادی، خاص طور پر بچوں میں مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری شدید کشیدگی اور تباہ کن فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے کا واٹر انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس کے باعث لاکھوں فلسطینی خاندان پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، غزہ کے زیادہ تر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، پائپ لائنیں اور کنویں یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا ایندھن اور بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بند پڑے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور وہ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ صاف پانی کی عدم دستیابی نے صحت عامہ کے سنگین مسائل کو جنم دیا ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال کے نتیجے میں ہیضہ، ہیپاٹائٹس، اور اسہال جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن سے سب سے زیادہ متاثر بچے اور بزرگ ہو رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی اور طبی سہولیات کی تباہی کے پیش نظر، پانی سے پیدا ہونے والی یہ بیماریاں ایک بڑے انسانی المیے کا سبب بن رہی ہیں۔ خاندانوں کو پانی کے حصول کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے، جہاں اکثر انہیں صرف غیر محفوظ یا آلودہ پانی ہی میسر آتا ہے جو انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو غزہ میں اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایندھن کی شدید قلت کے باعث پانی پمپ کرنے والے سٹیشنوں کو چلانا ناممکن ہو گیا ہے، جس سے صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بحران اب صرف ایک بنیادی ضرورت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے لیے فوری عالمی مداخلت کی ضرورت ہے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں پانی کا یہ بحران آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ زیر زمین پانی کے ذخائر بھی آلودگی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ غزہ کے عوام کے لیے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ اس تباہ کن صورتحال سے پیدا ہونے والی مزید ہلاکتوں کو روکا جا سکے۔