LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں امن عمل: 15 قیدیوں کی ایم 23 باغیوں کو حوالگی

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو کی حکومت نے دوحہ امن عمل کے پہلے مرحلے کے طور پر 15 قیدیوں کو ایم 23 باغیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس عمل کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے سہولت فراہم کی ہے جو شمالی کیوو میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو کی حکومت نے شمالی کیوو کے علاقے میں جاری برسوں پرانی کشیدگی کو ختم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 15 قیدیوں کو ایم 23 (M23) باغی گروپ کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ اقدام قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہونے والے امن عمل کے تحت اٹھایا گیا ہے جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ اس انخلاء اور منتقلی کے عمل کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (ICRC) نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سہولت فراہم کی، جس کی نگرانی کے لیے آزاد مبصرین بھی موجود تھے۔ یہ پہلی بار ہے کہ کانگو کی حکومت اور باغی گروپ کے مابین اس طرح کا براہ راست تبادلہ یا منتقلی عمل میں لائی گئی ہے۔ شمالی کیوو کا علاقہ طویل عرصے سے مسلح تنازعات اور ایم 23 باغیوں کی شورش کی زد میں رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور انسانی بحران نے سنگین شکل اختیار کر لی تھی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ 15 قیدی ان مذاکرات کا پہلا حصہ ہیں جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ضروری سمجھے جا رہے تھے۔ بین الاقوامی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ایک مثبت علامت قرار دیا ہے کہ فریقین عسکری محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ابھی بھی بہت سے اہم معاملات حل طلب ہیں جن میں باغیوں کا مکمل ہتھیار ڈالنا اور علاقے میں ریاستی رٹ کی بحالی شامل ہے۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ایک مختصر بیان میں تصدیق کی ہے کہ انہوں نے غیر جانبدار ثالث کے طور پر اس منتقلی میں کردار ادا کیا تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس منتقلی کے بعد اب علاقے میں مزید سیاسی پیش رفت کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دوحہ امن معاہدہ خطے میں استحکام لانے کے لیے ایک نیا موقع فراہم کر رہا ہے۔ کانگو کی حکومت اور باغی گروپ کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ اس بات کا غماز ہے کہ اگر بین الاقوامی ثالثی کو سنجیدگی سے لیا جائے تو طویل ترین تنازعات کا حل بھی ممکن ہے۔ عالمی مبصرین اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا ایم 23 گروپ اس اقدام کے بدلے میں اپنے کنٹرول والے علاقوں سے پیچھے ہٹے گا یا نہیں۔