LIVE
Loading Breaking News...

AI اور پرتشدد رویے: چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ایک حملہ آور کی گفتگو کا انکشاف

News Image
ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک حملہ آور نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ چھ ہزار چھ سو سے زائد پیغامات کا تبادلہ کیا تھا۔ یہ انکشاف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انسانی نفسیات اور پرتشدد رویوں پر اثرات پر ایک نئی بحث کا باعث بنا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں حالیہ پیش رفت اور چیٹ جی پی ٹی جیسے پلیٹ فارمز کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس کے منفی پہلوؤں پر بھی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ حال ہی میں 'مدر جونز' کی ایک تفصیلی رپورٹ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں فینکس آئکنر نامی ایک ایسے شخص کی تاریخ بیان کی گئی ہے جو بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث رہا۔ رپورٹ کے مطابق، آئکنر نے گزشتہ بارہ مہینوں کے دوران چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ چھ ہزار چھ سو سے زائد مرتبہ پیغامات کا تبادلہ کیا۔ ان گفتگوؤں میں سے درجنوں پیغامات اس کی ذہنی کیفیت اور پرتشدد رجحانات کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کیس نے ماہرینِ ٹیکنالوجی اور نفسیات کے درمیان ایک سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماڈلز کو اس طرح کے پرتشدد خیالات رکھنے والے افراد کی نگرانی کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کوئی صارف طویل عرصے تک کسی اے آئی ماڈل کے ساتھ اس طرح کی گفتگو کرتا ہے جو نقصان دہ ہو سکتی ہے، تو کیا کمپنیوں کے پاس ایسی حفاظتی دیواریں موجود ہیں جو حکام کو آگاہ کر سکیں؟ فی الحال، چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی لوگوں کی تنہائی اور ان کے ذہنی مسائل میں کس طرح مداخلت کر سکتی ہے، جس کے نتائج معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، ریسرچ بز اے آئی اپڈیٹس کے مطابق، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دیگر شعبوں بشمول گیس ٹربائنز اور پیچیدہ صنعتی سسٹمز میں اس کے استعمال پر بھی تحقیق جاری ہے۔ ہینک گرین جیسے ٹیکنالوجی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کو صرف ترقی کے لیے نہیں بلکہ انسانی تحفظ کے لیے ایک ذمہ دارانہ ڈھانچے کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ موجودہ واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ صرف الگورتھم کی بہتری کافی نہیں ہے، بلکہ ان آلات کے استعمال کرنے والوں کی نفسیاتی نگرانی اور اخلاقی حدود کا تعین کرنا بھی ناگزیر ہے۔ آنے والے وقت میں، حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں کو اے آئی ماڈلز میں ایسے حفاظتی الگورتھمز شامل کرنا ہوں گے جو کسی بھی ممکنہ بڑے سانحے کو وقوع پذیر ہونے سے قبل روکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔