LIVE
Loading Breaking News...

پرندوں کی شناخت کے لیے موبائل ایپس کی مقبولیت اور برڈ واچنگ کا نیا انداز

News Image
برڈ واچنگ کے شوقین افراد اب پرندوں کی شناخت کے لیے شازم جیسی جدید موبائل ایپلیکیشنز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ ان ڈیجیٹل ٹولز نے نہ صرف اس روایتی شوق کو یکسر بدل دیا ہے بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف راغب کیا ہے۔
موبائل ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کی طرح تفریح اور فطرت سے محبت کرنے کے انداز کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ حال ہی میں برڈ واچنگ کے شوقین افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کس طرح پرندوں کی آوازوں اور شکلوں کو فوری طور پر شناخت کرنے والی ایپس نے ان کے اس دیرینہ شوق کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ اب جنگلوں، باغوں اور کھلے میدانوں میں گھومنے والے افراد کو پرندوں کی اقسام جاننے کے لیے موٹی کتابوں یا ماہرین پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ایک سمارٹ فون کلک پر تمام معلومات فراہم کر دیتا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جو ٹیکنالوجی کے ذریعے فطرت کے قریب آ رہی ہے۔ اس طرح کی ایپس نے روایتی برڈ واچنگ کو ایک نیا اور دلچسپ رخ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شازم جیسی میوزک ریکگنیشن ایپس کے طرز پر بنائی گئی یہ ایپلیکیشنز پرندوں کی چہچہاہٹ کو سیکنڈوں میں شناخت کر لیتی ہیں۔ جب کوئی پرندہ بولتا ہے تو ایپ کا الگورتھم صوتی لہروں کا تجزیہ کر کے مائیکرو سیکنڈز میں اس کی درست نسل اور نام اسکرین پر ظاہر کر دیتا ہے۔ اس سہولت کی وجہ سے وہ لوگ بھی جو اس میدان میں بالکل نئے ہیں، اب بڑی آسانی سے پرندوں کی دنیا کو سمجھ رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے سیکھنے کے عمل کو انتہائی آسان اور دلکش بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے پارکوں اور جنگلات میں پرندوں کا مشاہدہ کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نئی نسل کا اس شوق کی طرف مائل ہونا ماحولیاتی تحفظ اور جنگی حیات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے بھی ایک خوش آئند قدم ہے۔ جب نوجوان اپنے ارد گرد موجود پرندوں کے نام اور ان کی خصوصیات سے آگاہ ہوتے ہیں تو ان میں قدرتی ماحول کے تحفظ کا احساس بھی پروان چڑھتا ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے برڈ واچنگ کا یہ شوق مزید وسعت اختیار کرے گا اور عام لوگ بھی سائنسی تحقیق میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے۔