Health
موڈرنا کی ایم آر این اے فلو ویکسین: ایف ڈی اے کی جانب سے منظوری
امریکی ایف ڈی اے نے بوڑھے افراد کے لیے موڈرنا کی نئی ایم آر این اے فلو ویکسین کو منظور کر لیا ہے۔ یہ ویکسین کووڈ-19 کے دوران کامیاب ثابت ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز) امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے طبی تاریخ میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بڑی عمر کے افراد کے لیے موڈرنا کی تیار کردہ نئی فلو ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ویکسین اس جدید 'ایم آر این اے' (mRNA) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے جس نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران دنیا بھر میں لاکھوں جانیں بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ یہ منظوری فلو سے بچاؤ کے روایتی طریقوں میں ایک انقلابی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ اب تک فلو ویکسینز زیادہ تر پرانی ٹیکنالوجی پر مبنی تھیں۔
نئی ویکسین کا بنیادی مقصد خاص طور پر 65 سال اور اس سے زائد عمر کے ان افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہے جن کے لیے موسمی فلو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایم آر این اے ٹیکنالوجی جسم کے مدافعتی نظام کو زیادہ تیزی سے اور مؤثر طریقے سے متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے جسم وائرس کے خلاف بہتر دفاع تیار کر پاتا ہے۔ موڈرنا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ویکسین کلینیکل ٹرائلز میں محفوظ اور مؤثر ثابت ہوئی ہے، جس کے بعد حکام نے اس کے عوامی استعمال کی اجازت دی ہے۔
اس نئی پیشرفت کو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں فلو ویکسین بنانے کا عمل سست تھا اور اکثر اوقات وائرس کی تبدیلیوں کے مطابق ویکسین تیار کرنا ایک چیلنج ہوتا تھا، تاہم ایم آر این اے پلیٹ فارم کے ذریعے اب ویکسین کی تیاری اور اس میں تبدیلیاں کرنا کہیں زیادہ آسان اور تیز ہو گیا ہے۔ طبی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نہ صرف فلو بلکہ دیگر متعدی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھی ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہوگی۔
امریکی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین آنے والے فلو سیزن میں بزرگ شہریوں کے لیے دستیاب ہوگی۔ اگرچہ روایتی ویکسینز اب بھی مارکیٹ میں موجود رہیں گی، لیکن موڈرنا کی اس نئی پیشکش سے شہریوں کو صحت کے تحفظ کے لیے جدید تر متبادل فراہم ہو گیا ہے۔ ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے معالج کے مشورے سے ویکسینیشن کا عمل مکمل کریں تاکہ صحت عامہ کو درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے۔