Technology
پیٹرون اسکین: بارز میں صارفین کا ڈیٹا محفوظ کرنے کا تنازع
امریکہ کے شہر سین فرانسسکو کے ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے مراکز میں پیٹرون اسکین نامی ٹیکنالوجی کا استعمال صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ یہ سسٹم گاہکوں کے شناختی کارڈ اور چہروں کی تصاویر محفوظ کر رہا ہے جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سینس فرانسسکو کے مشہور علاقے 'کیسٹرو' میں واقع متعدد ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ+) بارز کی جانب سے 'پیٹرون اسکین' (PatronScan) نامی سیکیورٹی سسٹم کے استعمال نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف بار میں داخل ہونے والے گاہکوں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کرتا ہے بلکہ ان کے چہروں کی تصاویر بھی محفوظ کر لیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا بنیادی مقصد مبینہ طور پر جعلی شناختی کارڈز کی روک تھام اور غیر مطلوبہ افراد کو بار سے دور رکھنا بتایا گیا ہے، تاہم اس عمل کے طویل مدتی اثرات پر انسانی حقوق کے ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس معاملے پر سب سے زیادہ تنقید اس بات پر کی جا رہی ہے کہ آیا ایک نجی تفریحی مقام کو اپنے گاہکوں کا حساس بائیو میٹرک ڈیٹا اور ان کی ذاتی معلومات کا ڈیٹا بیس بنانے کا قانونی حق حاصل ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ڈیٹا ذخیرہ کرنا نہ صرف صارفین کی پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مستقبل میں ہیکنگ یا ڈیٹا لیک ہونے کی صورت میں گاہکوں کی شناخت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لیے، جنہیں کئی علاقوں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی نقل و حرکت کا ریکارڈ محفوظ ہونا ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔
پیٹرون اسکین کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت کے لیے جدید انکرپشن کا استعمال کرتی ہے اور ان کا مقصد بارز کے مالکان کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب، سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اکثر اس قسم کے ڈیٹا کو تجارتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہیں، جس کی شفافیت کی ضمانت دینا مشکل ہے۔ سینس فرانسسکو کے شہری حلقوں میں اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مقامی حکومت اس معاملے میں مداخلت کرے اور نجی کاروباری اداروں کی جانب سے صارفین کی نگرانی کرنے والی ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر کڑے ضابطے لاگو کیے جائیں۔
یہ تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل نگرانی ہماری روزمرہ کی زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ ان شکایات کے پیش نظر اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لاتی ہے یا پھر صارفین کی پرائیویسی کو سیکیورٹی کے نام پر مزید داؤ پر لگایا جاتا رہے گا۔ فی الحال، اس ٹیکنالوجی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور بہت سے صارفین اپنی معلومات کے تحفظ کے لیے ایسے بارز کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں جہاں پیٹرون اسکین سسٹم نصب ہے۔