LIVE
Loading Breaking News...

ایلی روتھ کی فلم آئس کریم مین میں اے آئی کا استعمال

News Image
نامور ہدایت کار ایلی روتھ نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی آنے والی فلم 'آئس کریم مین' کے کچھ مناظر میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد لی گئی ہے۔ پہلے ان کی جانب سے اس حقیقت کو چھپایا گیا تھا لیکن اب انہوں نے تکنیکی معاونت کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
ہالی وڈ کے معروف ہدایت کار ایلی روتھ نے اپنی تازہ ترین فلم 'آئس کریم مین' کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کیا ہے، جس نے فلمی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فلم کی ریلیز سے محض چند دن قبل، روتھ نے تسلیم کیا کہ فلم کے کچھ انتہائی زیر بحث مناظر کی تکمیل کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کی تکنیک کا سہارا لیا گیا ہے۔ یہ بیان اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل ہدایت کار کی جانب سے اس بات کو واضح نہیں کیا گیا تھا بلکہ کچھ مقامات پر انہوں نے اس امکان کو رد کرنے کی کوشش کی تھی۔ فلمی ماہرین کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی کا فلم سازی میں استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم 'آئس کریم مین' جیسے پروجیکٹس میں جہاں انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے، وہاں اے آئی کا استعمال شائقین کے لیے حیران کن ہے۔ ایلی روتھ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فلم کے وژن کو بہتر انداز میں سکرین پر لانا تھا اور اس کے لیے چند مخصوص شاٹس میں اے آئی ٹولز نے ان کی ٹیم کا کام آسان بنایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ٹیکنالوجی پوری فلم کے بجائے صرف چھوٹے حصوں میں محدود رکھی گئی ہے تاکہ کہانی کے تاثر کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس اعتراف کے بعد ہالی وڈ میں اے آئی کے استعمال پر ہونے والی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ جہاں کچھ تخلیق کار اسے فلم سازی کے مستقبل کے لیے ایک کارآمد ہتھیار مانتے ہیں، وہیں ایک بڑا طبقہ اس کے استعمال کو فنکارانہ آزادی اور انسانی مہارت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ ایلی روتھ کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ بڑے ہدایت کار بھی اب اپنی فلموں کو تکنیکی طور پر جدید بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے گریز نہیں کر رہے۔ فلم 'آئس کریم مین' اپنے سنسنی خیز موضوع اور ایلی روتھ کے منفرد اندازِ ہدایت کاری کی وجہ سے پہلے ہی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اب جبکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا عمل دخل ہے، ناقدین کی نظریں فلم کی ریلیز پر مرکوز ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا اے آئی سے تیار کردہ مناظر فلم کے معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ بہر حال، یہ واقعہ فلم انڈسٹری میں شفافیت کے حوالے سے ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے جہاں ہدایت کاروں کو اپنی تکنیک پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔