LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اے آئی ریگولیشن اور چھوٹی کمپنیوں کے تحفظات

News Image
امریکی حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے ضابطہ اخلاق کو خفیہ رکھنے کے فیصلے پر چھوٹی ٹیک کمپنیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شفافیت نہ ہونے سے انڈسٹری میں غیر منصفانہ مسابقت جنم لے سکتی ہے۔
واشنگٹن میں مصنوعی ذہانت (AI) کے مستقبل اور اس کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے جاری بحث نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ حال ہی میں انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں اور امریکی حکومتی عہدیداران کے مابین ہونے والی اہم ملاقاتوں کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومت اپنے بنائے گئے اے آئی رول بک کو نجی اور خفیہ رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اقدام نے خاص طور پر چھوٹی اور ابھرتی ہوئی اے آئی لیبارٹریوں اور اسٹارٹ اپس میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے، جو پہلے ہی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ چھوٹی کمپنیوں کا موقف ہے کہ جب تک ریگولیشن کے اصول و ضوابط واضح اور سب کے لیے سامنے نہیں ہوں گے، تب تک ایک منصفانہ ماحول کا قیام ممکن نہیں ہے۔ ان کے نزدیک حکومتی خفیہ پالیسیاں دراصل بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی وسیع وسائل موجود ہیں اور وہ حکومتی فیصلوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔ اس صورتحال سے انڈسٹری میں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے اور بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شفافیت کی کمی سے جدت پسندی (Innovation) کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اے آئی کے حوالے سے کچھ حساس معلومات کو خفیہ رکھنا قومی سلامتی اور مسابقتی فوائد کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، لہذا ریگولیشن کے عمل کو ضرورت کے مطابق لچکدار اور محفوظ رکھنے کے لیے اسے فوری طور پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، یہ دلائل ان چھوٹی کمپنیوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہیں جو سمجھتی ہیں کہ شفاف قوانین ان کے مستقبل کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ مستقبل میں یہ تنازعہ مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ اے آئی کا شعبہ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری روزمرہ کی زندگی اور معیشت کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واشنگٹن اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے گا یا پھر یہ خفیہ پالیسی امریکی ٹیک انڈسٹری میں تقسیم کا باعث بنے گی۔ انڈسٹری کے مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو جلد یا بدیر ایک ایسا متوازن راستہ اختیار کرنا ہوگا جس میں قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ چھوٹی کمپنیوں کے حقوق اور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جا سکے تاکہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستحکم بنیادوں پر ترقی کر سکے۔