World
اسکاٹ گیلوے کا نوجوان مردوں کے لیے نیا مشورہ اور تنقید
نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ گیلوے نے نوجوان مردوں کی ذہنی صحت اور خوشحالی کے لیے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ان کے خیالات کو ماہرین نفسیات اور سماجی حلقوں میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
نیویارک یونیورسٹی کے مارکیٹنگ کے پروفیسر اور مشہور مصنف اسکاٹ گیلوے حال ہی میں نوجوان مردوں کی ذہنی کیفیت اور ان کی خوشحالی کے حوالے سے اپنے خیالات کی وجہ سے بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ گیلوے، جو گزشتہ چند برسوں میں اپنے بے باک تجزیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نوجوان مردوں کو اپنی زندگی میں خوشی اور مقصد تلاش کرنے کے لیے سماجی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تاہم، ان کے پیش کردہ مشورے کئی ماہرین نفسیات اور سماجی مبصرین کے نزدیک انتہائی متنازعہ سمجھے جا رہے ہیں۔ گیلوے کا دعویٰ ہے کہ نوجوان مردوں میں بڑھتی ہوئی تنہائی اور مایوسی کی بڑی وجہ روایتی توقعات اور جدید معاشی دباؤ ہیں۔
اسکاٹ گیلوے کی تجاویز میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نوجوانوں کو اپنی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ معاشرتی تعلقات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ مردوں کو اپنی 'مردانگی' کے روایتی تصورات سے باہر نکل کر جذباتی ذہانت پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ گیلوے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ نظریہ بہت زیادہ سطحی ہے اور یہ ان بنیادی معاشی اور سسٹمک مسائل کو نظر انداز کرتا ہے جن کا سامنا آج کی نوجوان نسل کو ہے۔ تنقید کرنے والوں کا استدلال ہے کہ صرف فرد کو تبدیل کرنے کا مشورہ دینے سے بڑے سماجی مسئلے حل نہیں ہوتے، کیونکہ یہ مسائل اکثر بیروزگاری، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور تنہائی کے احساس سے جڑے ہوتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسکاٹ گیلوے کا انداز بیاں بظاہر بہت دلکش اور منطقی لگتا ہے، لیکن عملی زندگی میں اس پر عمل درآمد کرنا نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا انسانوں کے درمیان خلیج پیدا کر رہی ہے، گیلوے کا مشورہ ہے کہ نوجوان مردوں کو دوبارہ 'کمیونٹی' اور 'اصل زندگی کے تعلقات' کی طرف لوٹنا چاہیے۔ یہ نقطہ نظر بظاہر مثبت ہے لیکن اس پر عمل کرنے کے لیے درکار وسائل اور ماحول فراہم کرنا ایک الگ بحث ہے۔
آخر میں، اسکاٹ گیلوے کے یہ خیالات اس بڑی بحث کا حصہ ہیں جو آج کل مغرب سمیت دنیا بھر میں مردوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے جاری ہے۔ اگرچہ ان کے کچھ مشورے قابلِ غور ہیں، لیکن یہ حقیقت واضح ہے کہ نوجوان مردوں کی فلاح و بہبود کے لیے کسی ایک فارمولے پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے کے ہر طبقے کو مل کر ان مسائل کے دیرپا حل تلاش کرنے ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک متوازن اور خوشگوار زندگی فراہم کی جا سکے۔