World
روسی جیل میں قید امریکی شہری رابرٹ گلمین کی حالت نازک
روسی جیل میں 2022 سے قید امریکی سابق میرین رابرٹ گلمین کی حالت بگڑنے کے بعد ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ طویل عرصے سے کیٹاٹونک حالت میں رہنے کے باعث گلمین کی جان کو خطرہ ہے۔
روس میں 2022 سے قید امریکی سابق میرین رابرٹ گلمین کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکلاء اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ایک ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گلمین کی صحت انتہائی تیزی سے بگڑ رہی ہے اور وہ موت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ طویل عرصے تک قید تنہائی اور جیل کے سخت حالات کے باعث وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے کیٹاٹونک (جمود کی) کیفیت میں مبتلا ہیں، جس کے دوران وہ کسی بھی بیرونی محرک کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔
رابرٹ گلمین کو سن 2022 میں ایک مبینہ جھگڑے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ روسی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے وکیلوں کے مطابق، گلمین کی ذہنی اور جسمانی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، بصورت دیگر ان کی جان بچانا مشکل ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے روسی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گلمین کو فوری طور پر مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں یا انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔
اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کے تناظر میں، گلمین کا معاملہ دوطرفہ سفارتکاری میں ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس میں قید امریکی شہریوں کا معاملہ اکثر سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم رابرٹ گلمین کی حالیہ تشویشناک صورتحال نے اس کیس کو انسانی بنیادوں پر ایک سنگین موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
فی الحال، گلمین کے اہل خانہ نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور روسی حکام پر دباؤ ڈالیں تاکہ ان کے پیارے کو بروقت طبی امداد مل سکے۔ طبی ماہرین کے مطابق کیٹاٹونک کیفیت میں طویل عرصہ رہنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور اگر انہیں فوری طور پر بہتر ماحول اور طبی نگہداشت فراہم نہ کی گئی تو یہ ایک بڑی انسانی المیہ بن سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اس معاملے کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کے محافظ حکومتی مداخلت کے منتظر ہیں۔