LIVE
Loading Breaking News...

ٹیرف اصلاحات اور وکست بھارت وژن پر وزیر خزانہ کا اہم بیان

News Image
وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے اعلان کیا ہے کہ درآمدی ٹیرف کو معقول بنانے کا عمل جاری رہے گا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزید اصلاحات متوقع ہیں۔ انہوں نے 2047 تک 'وکست بھارت' کے وژن کے تحت غربت کے خاتمے اور معاشی خود انحصاری کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے ایک اہم پالیسی بیان میں تصدیق کی ہے کہ ملک میں درآمدی ٹیرف کو معقول بنانے کا عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی اصلاحات کا یہ سلسلہ نہ صرف موجودہ حالات کے مطابق جاری ہے بلکہ آئندہ مالی سال 28-2027 کے بجٹ میں بھی ٹیرف کے ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات متوقع ہیں۔ حکومت کا مقصد درآمدی ڈیوٹیز کو صنعت دوست بنانا اور ملکی پیداوار کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنانا ہے۔ یہ اقدامات مقامی صنعت کاروں کے لیے خام مال کی فراہمی کو آسان بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے کے وسیع تر حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ وزیر خزانہ نے اپنی تقریر کے دوران 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ بھارت) کے عظیم وژن پر بھی روشنی ڈالی جو کہ سال 2047 تک کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ اس وژن کا مرکزی نکتہ ملک سے مکمل طور پر غربت کا خاتمہ کرنا اور ایک ایسی معیشت کی تشکیل ہے جو تکنیکی اور مالی اعتبار سے خود کفیل ہو۔ نرملا سیتارامن کے مطابق، ٹیرف میں معقولیت لانا اسی طویل مدتی سفر کا ایک اہم جزو ہے جس سے معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مسلسل مشاورت کے ذریعے ان پالیسیوں کو حتمی شکل دے رہی ہے تاکہ عام آدمی اور کاروباری طبقے دونوں کو طویل مدتی فائدہ پہنچ سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیرف ڈھانچے میں ان تبدیلیوں سے بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور سپلائی چین کے مسائل کم ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت کا وژن محض معاشی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سماجی انصاف اور سب کی شمولیت والی ترقی پر مبنی ہے۔ آنے والے سالوں میں بجٹ کے دوران کیے جانے والے اقدامات کا محور ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی ہوگا۔ حکومت کا عزم ہے کہ مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک کی صف میں کھڑا کیا جا سکے۔ ان اصلاحات سے امید کی جا رہی ہے کہ ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو کہ 'وکست بھارت' کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔