LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلین براڈ بینڈ کا کسٹمر سروس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس متعارف کرانے کا فیصلہ

News Image
آسٹریلین براڈ بینڈ کمپنی اپنے کسٹمر سپورٹ کے معمول کے کاموں کو خودکار بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمپنی کا مقصد انسانی عملے کی موجودگی کو برقرار رکھتے ہوئے تکنیکی مدد کے عمل کو تیز تر بنانا ہے۔
آسٹریلین براڈ بینڈ نے باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی کسٹمر سپورٹ سروسز میں مصنوعی ذہانت (AI) کو شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹیلی مواصلات کے شعبے میں کام کرنے والی یہ معروف کمپنی، جو روایتی طور پر اپنے انسانی مراکز اور کسٹمر سینٹرک اپروچ کے لیے جانی جاتی ہے، اب تکنیکی ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا بنیادی مقصد کسٹمر سپورٹ میں آنے والی ان درخواستوں کو خودکار بنانا ہے جو معمول کی نوعیت کی ہوتی ہیں اور بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانی عملے کا متبادل تلاش کرنا نہیں بلکہ ان کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بنیادی اور بار بار پوچھے جانے والے سوالات کے فوری جوابات دیے جا سکیں گے، جس سے کسٹمر سپورٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو ان مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا وقت ملے گا جو زیادہ پیچیدہ ہیں اور جن کے لیے انسانی رابطے کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صارفین کے انتظار کے وقت کو کم کرنا اور سروس کے معیار کو عالمی سطح کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ فی الحال آسٹریلین براڈ بینڈ اس ٹیکنالوجی کی جانچ پڑتال کے مراحل میں ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خودکار نظام (AI Handoff) صارفین کے تجربے کو متاثر نہ کرے۔ کمپنی اس بات پر خاص طور پر توجہ دے رہی ہے کہ جہاں کہیں بھی پیچیدگی زیادہ ہو، وہاں سسٹم فوری طور پر انسانی ایجنٹ کو کال منتقل کر دے۔ اس محتاط انداز سے کمپنی اپنے انسانیت پر مبنی ورثے اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ٹیلی کام انڈسٹری میں کسٹمر سپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ایک تیزی سے مقبول ہوتا ہوا رجحان ہے۔ آسٹریلین براڈ بینڈ کی جانب سے اس اقدام کو نہ صرف آپریشنل اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے صارفین کے اطمینان میں اضافے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں کمپنی کے صارفین اس نئی ٹیکنالوجی کے عملی تجربے کے بعد ہی اس کے حقیقی فوائد کا اندازہ لگا سکیں گے۔