LIVE
Loading Breaking News...

بجلی کے نرخوں میں اضافہ: فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 75 پیسے مہنگی

News Image
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اضافہ صارفین کے اگست کے بجلی کے بلوں میں لاگو کیا جائے گا جس سے شہریوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک بار پھر بجلی کے صارفین پر اضافی بوجھ ڈالتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں کیا گیا ہے جس کا اطلاق ملک بھر کے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔ نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کے نرخوں میں یہ اضافہ اگست کے مہینے کے بجلی کے بلوں میں شامل ہو کر آئے گا، جس سے صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ بجلی کی قیمتوں میں ایف سی اے کی مد میں یہ ردوبدل ہر ماہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹس کے لیے ایندھن کی خریداری میں ہونے والی لاگت کو ایڈجسٹ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ بجلی کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ تاہم، عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ پہلے سے ہی بڑھتی ہوئی افراطِ زر کے باعث عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر ہوگا۔ اگست کے بلوں میں 75 پیسے فی یونٹ کا اضافہ شامل ہونے سے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست صارفین کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی ریلیف پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے سستے اور مقامی ذرائع پر انحصار بڑھایا جائے تاکہ ایف سی اے کی مد میں بار بار کے اضافوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ صارفین کو اب اگست کے بلوں کی ادائیگی کے دوران اس اضافی رقم کی ادائیگی یقینی بنانی ہوگی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی پہلے ہی ایک بڑا معاشی چیلنج بن چکی ہے۔