LIVE
Loading Breaking News...

کاپر کی عالمی مانگ میں ریکارڈ اضافہ: قیمتیں نئی بلندیوں کی طرف گامزن

News Image
عالمی منڈی میں تانبے کی طلب میں تیزی سے اضافے کے بعد قیمتوں کے نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان دھاتوں کے ذخائر حاصل کرنے کی دوڑ اور سپلائی میں رکاوٹوں نے مارکیٹ کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تانبے (کاپر) کی قیمتیں ایک بار پھر نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار ہیں، جس کی بنیادی وجہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں، امریکہ اور چین کے درمیان صنعتی دھاتوں کے محدود ذخائر کو حاصل کرنے کی سخت مسابقت ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تانبے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان مئی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر ہے، اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سپلائی چین میں درپیش مسائل اور عالمی سطح پر گرتے ہوئے اسٹاکس اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اس تیزی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے انفراسٹرکچر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ ڈیٹا سینٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کی تنصیبات کے لیے کاپر کی بھاری مقدار درکار ہوتی ہے، جس کے باعث عالمی سپلائی چین پر شدید دباؤ پڑا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ اپنی صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے، وہیں چین بھی اپنی مینوفیکچرنگ کی ضرورتوں کو یقینی بنانے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان دھاتوں کے ذخائر پر قبضے کی یہ جنگ تانبے کی قیمتوں کو مسلسل اوپر لے جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، کاپر، یورینیم اور لیتھیم جیسی اہم دھاتوں کے حوالے سے مارکیٹ کا مستقبل کافی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے، تاہم تانبے کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ایک بڑے ریباؤنڈ کی نشاندہی کر رہا ہے۔ سپلائی میں رکاوٹیں اور کان کنی کے منصوبوں میں تاخیر اس بحران کو گہرا کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے ریکارڈ توڑنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ سرمایہ کار اب ان حالات کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں کیونکہ صنعتی دھاتوں کا یہ بحران آنے والے مہینوں میں عالمی افراطِ زر پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر طلب اور رسد کا یہ عدم توازن برقرار رہتا ہے تو دنیا بھر کی صنعتوں کو خام مال کے حصول کے لیے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال، عالمی سطح پر تانبے کی طلب میں اضافہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور گرین انرجی کے منصوبے دھاتوں کی عالمی مارکیٹ میں ایک نئی ہلچل پیدا کر رہے ہیں۔