LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا کا سیاسی بحران: کیا سفارتی کوششیں امن لا سکیں گی؟

News Image
لیبیا سن 2014 سے دو حریف حکومتوں کے درمیان تقسیم کا شکار ہے جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا راج ہے۔ بین الاقوامی برادری اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہی ہے۔
لیبیا گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے شدید سیاسی خلفشار اور تقسیم کا شکار ہے۔ سن 2014 میں شروع ہونے والی یہ تقسیم ملک کو عملی طور پر دو حصوں میں بانٹ چکی ہے، جہاں مشرقی اور مغربی حصوں میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے بلکہ خطے کے امن و امان کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مقامی اور عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ لیبیا کے بحران کا کوئی بھی عسکری حل ممکن نہیں اور واحد راستہ جامع سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری ہی ہے۔ حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے لیبیا میں انتخابات کے انعقاد اور ایک مستحکم مرکزی حکومت کے قیام کے لیے بے شمار کوششیں کی ہیں، تاہم حریف دھڑوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہر بار ان کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ مشرقی لیبیا میں قابض انتظامیہ اور مغرب میں قائم حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے جبکہ تیل کی پیداوار بھی اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوتی رہی ہے۔ سفارتی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا حریف گروہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر ایک متحدہ لیبیا کے لیے کوئی سمجھوتہ کر پائیں گے؟ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک بیرونی مداخلت کا سلسلہ بند نہیں ہوتا اور تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر نہیں بیٹھتے، تب تک لیبیا میں دائمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔ سفارت کاری کا راستہ یقیناً طویل اور صبر آزما ہے، جس میں تمام فریقین کو کچھ نہ کچھ لو اور دو کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ لیبیا کے عوام اب دہائیوں سے جاری اس بے یقینی کی صورتحال سے تھک چکے ہیں اور ملک میں ایک ایسی حکومت چاہتے ہیں جو قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے اور ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ مستقبل میں لیبیا کی تقدیر کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا وہاں کے مقامی رہنما عالمی دباؤ اور قومی مفاد کی خاطر اپنے اختلافات ختم کرنے پر تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر سفارتی عمل کو مزید شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ لیبیا ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ لیبیا کے تمام فریقین ملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر ایک ایسے لائحہ عمل پر متفق ہوں جو تشدد کے خاتمے اور جمہوری عمل کی بحالی کو یقینی بنا سکے۔