Education
اسکولوں میں اے آئی ٹیکنالوجی: لنکاسٹر ڈسٹرکٹ کی نئی حکمت عملی
اسکول ڈسٹرکٹ آف لنکاسٹر کے بورڈ ممبران نے 2026-27 کے تعلیمی سال میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ بورڈ کے دو تہائی ممبران اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کلاس رومز میں طلباء کی حفاظت اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے نئے اصول وضع کیے جائیں۔
اسکول ڈسٹرکٹ آف لنکاسٹر کے بورڈ ممبران نے آئندہ تعلیمی سال 2026-27 کے دوران کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کے دو تہائی ممبران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک سال پرانی پالیسی کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ طلبا کس حد تک اور کن شرائط کے تحت ٹیکنالوجی کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ اے آئی کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ تعلیمی ماحول میں مناسب ضابطہ اخلاق کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔
بورڈ کے اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی اگرچہ طلباء کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے غیر منظم استعمال سے تعلیمی دیانت داری اور معلومات کی درستگی پر سمجھوتہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ممبران کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی میں ایسی شقیں شامل ہونی چاہئیں جو اساتذہ اور طلباء دونوں کے لیے واضح رہنمائی فراہم کریں کہ کلاس روم کے اندر کون سے اے آئی ٹولز استعمال کیے جائیں اور کن پر پابندی عائد کی جائے۔
انتظامیہ کے مطابق، اسکول ڈسٹرکٹ کا مقصد ٹیکنالوجی کو تعلیمی ترقی کا ذریعہ بنانا ہے، نہ کہ اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا۔ تاہم، بورڈ کا اصرار ہے کہ کسی بھی قسم کی جدید ٹیکنالوجی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے سے پہلے اس کے سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے۔ آنے والے مہینوں میں بورڈ کی جانب سے ماہرین تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ ایک جامع فریم ورک تیار کیا جا سکے جو طلباء کی پرائیویسی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو محفوظ رکھ سکے۔
اس پیشرفت کو تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے اسکول اپنے نظام میں مصنوعی ذہانت کو ضم کر رہے ہیں، اس بات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے کہ والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان قریبی رابطہ رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ لنکاسٹر کا یہ اقدام دیگر ڈسٹرکٹس کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو مستقبل میں ڈیجیٹل تعلیم کی طرف قدم بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔