Technology
روبوٹکس میں سماجی ذہانت: انسانی رویوں کو سمجھنے والی جدید ٹیکنالوجی
مستقبل میں روبوٹس محض مشینی آلات کے بجائے انسانی ساتھیوں کے طور پر کام کریں گے جن میں سماجی ذہانت کو شامل کیا جا رہا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور گھروں میں روبوٹس کا کردار مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔
ماہرینِ ٹیکنالوجی کا ماننا ہے کہ روبوٹکس کی دنیا میں اگلا بڑا انقلابی قدم 'سماجی ذہانت' (Social Intelligence) کا انضمام ہے۔ اب تک روبوٹس کو صرف مخصوص کاموں کو دہرانے والے مشینی آلات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، لیکن مصنوعی ذہانت کی جدید تحقیقات اب ان مشینوں کو انسانی جذبات اور سماجی رویوں کو سمجھنے کے قابل بنا رہی ہیں۔ اگر یہ تجربات مکمل طور پر کامیاب ہوتے ہیں تو مستقبل کے روبوٹس محض اوزار نہیں بلکہ ایسے باہمی معاون ساتھی ثابت ہوں گے جو انسانوں کے شانہ بشانہ کام کر سکیں گے۔
اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا اطلاق ہسپتالوں، اسکولوں، ریٹیل اسٹورز اور ہوٹلوں جیسے عوامی مقامات پر دیکھنے میں آئے گا۔ مثال کے طور پر، ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے روبوٹس ڈاکٹروں اور نرسوں کی مدد کے لیے دستیاب ہوں گے جو نہ صرف مریضوں کی جسمانی ضروریات پوری کریں گے بلکہ ان کے ساتھ سماجی میل جول بھی رکھ سکیں گے۔ اسی طرح گھروں میں یہ روبوٹس بزرگوں کی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جو ان کی تنہائی کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی روزمرہ کی طبی ضروریات پر بھی نظر رکھ سکیں گے۔
سماجی ذہانت کا مطلب یہ ہے کہ روبوٹ انسانی چہروں کے تاثرات، آواز کے لہجے اور سماجی ماحول کی باریکیوں کو پہچان سکے۔ جب کوئی روبوٹ انسانی جذبات کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس کے ساتھ کام کرنے کا عمل ایک مشینی تجربے سے نکل کر ایک باہمی تعاون کے عمل میں بدل جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایسے روبوٹس بچوں کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک استاد کی طرح رہنمائی کر سکیں گے، جہاں وہ طالب علم کی دلچسپی اور موڈ کے مطابق اپنے اندازِ گفتگو کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔
اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے ریٹیل اور سروس انڈسٹری میں بھی بڑی تبدیلیوں کی توقع ہے۔ شاپنگ مالز اور ہوٹلوں میں کسٹمر سروس کے لیے ایسے روبوٹس استعمال کیے جائیں گے جو گاہکوں کو خوش آمدید کہنے سے لے کر ان کی پسند کے مطابق تجاویز دینے تک کی صلاحیت رکھیں گے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں اور ڈیٹا پرائیویسی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ روبوٹس اور انسانوں کے درمیان قائم ہونے والا یہ رشتہ محفوظ اور قابلِ اعتماد رہ سکے۔ مجموعی طور پر، سماجی ذہانت سے لیس روبوٹس کا دور انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔