Technology
قدیم رومی کنکریٹ کی پائیداری: جدید سائنسی تحقیق
محققین نے قدیم رومی کنکریٹ کی غیر معمولی پائیداری کی وجوہات کا سراغ لگا لیا ہے جو دو ہزار سال گزرنے کے باوجود اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ ہیڈرین ولا کے مطالعے سے پتا چلا کہ اس میں موجود کیلشیم اور قدرتی کیمیائی عمل اسے وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط بناتے ہیں۔
سائنسدانوں نے طویل عرصے سے جاری اس معمے کو حل کر لیا ہے کہ قدیم رومیوں کا تیار کردہ کنکریٹ دو ہزار سال گزرنے کے باوجود آج بھی کیوں اپنی مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق رومیوں نے اپنی تعمیرات میں ایک ایسا منفرد کیمیائی عمل استعمال کیا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ مواد کو کمزور کرنے کے بجائے مزید پائیدار بناتا ہے۔ اس اہم دریافت نے ماہرینِ تعمیرات اور انجینئرز کو حیران کر دیا ہے کیونکہ جدید دور کا کنکریٹ چند دہائیوں میں ہی اپنی افادیت کھونے لگتا ہے، جبکہ قدیم رومی عمارتیں اور بندرگاہیں آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے ہیڈرین ولا کے ایک قدیم لیٹرین کے حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ رومی کنکریٹ میں 'کیلسیٹ' نامی مادے کی تشکیل کا ایک خاص قدرتی عمل ہوتا ہے۔ جب اس کنکریٹ میں پانی یا نمی داخل ہوتی ہے تو اس کے اندر موجود چونے کے ذرات تحلیل ہو کر دوبارہ کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے کنکریٹ کے اندر موجود چھوٹی چھوٹی دراڑیں خود بخود بھر جاتی ہیں۔ اس عمل کو 'سیلف ہیلنگ' یا خود کو مرمت کرنے کی صلاحیت کہا جاتا ہے، جس کی بدولت کنکریٹ کا ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتا۔
محققین کا کہنا ہے کہ رومی کنکریٹ میں چونے کے پتھر کے ٹکڑے (لائم کلاسٹس) کا استعمال ایک انتہائی ہوشیار انجینئرنگ اقدام تھا۔ جب پانی کنکریٹ میں سرایت کرتا ہے تو یہ لائم کلاسٹس کے ساتھ ری ایکشن کر کے ایک مضبوط تہہ بناتے ہیں جو سیمنٹ کی جکڑ کو اور زیادہ طاقتور کر دیتی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف تاریخ کے طلباء کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ جدید تعمیراتی صنعت کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر آج کی دنیا اس قدیم ٹیکنالوجی کو اپنے تعمیراتی طریقوں میں شامل کر لے تو نہ صرف ماحول دوست تعمیرات ممکن ہوں گی بلکہ سیمنٹ کی تیاری میں پیدا ہونے والی کاربن کے اخراج کو بھی کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قدیم دور کے لوگ کیمسٹری اور مادی سائنس کے بارے میں غیر معمولی فہم رکھتے تھے۔ ماہرین اب اس قدیم نسخے کا استعمال کرتے ہوئے ایسے نئے مواد تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو نہ صرف زیادہ دیرپا ہوں بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھیں۔ یہ سائنسی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پرانی تہذیبوں کی ٹیکنالوجی آج کے جدید دور میں بھی انسانیت کی بہتری کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے۔