World
امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور سعودی عرب ترکی پاکستان دفاعی معاہدہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا دائرہ مزید پھیل گیا ہے جبکہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں کی جانب سے دبئی کے صنعتی علاقے پر حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کا دائرہ کار تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی موجودہ حکومت اب زیادہ دیر تک اس صورتحال کو برداشت نہیں کر پائے گی، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ سیاسی اور عسکری حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں طاقت کے نئے توازن اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پیشرفت کے تحت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس مثلثی معاہدے کو خطے کی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے تناظر میں ایک بڑا اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ممکنہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا اور باہمی تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔ اس دوران، صورتحال مزید اس وقت کشیدہ ہو گئی جب حوثی باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر دبئی کے اہم صنعتی علاقے جبل علی کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں سے خلیجی ممالک میں تجارتی سرگرمیوں اور سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تہران کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے جہاں ایرانی نائب صدر عارف نے کہا ہے کہ ملک آئندہ دو سالوں کے لیے بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایران کے مطابق وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بین الاقوامی برادری اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر بحران کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ جنگ کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔